ابھرتے بھارت کے دو متضاد چہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت میں آزادی کے بعد پہلی بار ایک غیر کانگریسی جماعت کے اپنے زور پر اقتدار میں آنے سے بی جے پی تو شادماں ہے ہی اس کے ساتھ ہی بہت سی ہندو جماعتیں مودی حکومت کی اس جیت کو بھارت میں ہندوئیت کا انقلاب سمجھنے لگی ہیں۔

گزشتہ دنوں جس ہندو راشٹر سینا کے انتہا پسندوں نے مہاراشٹر کے ایک شہر پونے میں ایک نوجوان شہری کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مار مار کر ہلاک کر دیا وہ اسی زمرے میں آتے ہیں۔ قتل سے پہلے انہوں نے مسلم نظر آنے والے کئی اور لوگوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ نوجوان کے قتل کے بعد انتہا پسندوں نے مراٹھی زبان میں ایس ایم ایس پیغامات میں لکھا تھا ’ایک وکٹ گر گیا‘۔

اس واقع سے پہلے کسی نامعلوم شخص نے فیس بک پر شیو سینا کے آنجہانی رہنما بال ٹھاکرے اور دور وسطیٰ کے ایک مراٹھا راجا شیوا جی کی ایک ہتک آمیزتصویر شائع کی تھی۔ ہندو راشٹر کے کارکن اسی کے جواب میں مسلمانوں پر حملہ کر رہے تھے۔ حالانکہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ فیس بک پر یہ تصویر کس نے پوسٹ کی تھی۔

پونے کے بی جے پی کے رکن پارلیمان نے مسلم نوجوان کے خوفناک قتل پر کہا کہ ’فیس بک پر شیوا جی کی ہتک آمیز پوسٹ پر یہ ایک فطری رد عمل تھا۔‘

اسی ہفتے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ایک تنظیم کی شکایت پر ملک کے ایک سرکردہ پبلشر نے ’مذہبی فسادات کے دوران جنسی تشد د‘ نام کی ایک کتاب کی فروخت اور اس کی مزید اشاعت بند کر دی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب اس تنظیم کے خوف سے کسی پبلشر نے کسی کتاب پر پابندی لگائی ہے۔

ملک میں ان واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے ۔

تصویر کا دوسرا پہلو انتہائی مثبت ہے۔ انتخاب جیتنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کام کرنا شروع کر دیا ہے ۔اپنے دس دن کی حکومت میں مودی حکومت نے کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اعلیٰ اہلکاروں سے کہاگیا ہے کہ وہ براہ راست وزیر اعظم سے مل سکتے ہیں ۔اور انہیں اپنے کام میں کسی سےڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

مودی نے اپنی جماعت کے ارکان پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ بلاوجہ ادھر ادھر اپنی توانائی برباد کرنے کے اپنی توجہ صرف اپے حلقے کی ترقی پر مرکوز کریں اور حکومت کو کا اپنا کام کرنے دیں۔

سارے وزیروں کو ان کے اہدف دے دیےگئے ہیں جو انہیں تین مہینے میں پورے کرنے ہیں۔ کئی اہم پالیسی فیصلوں کا اعلان ہو چکا ہے۔کابینہ کی کئی میٹنگین ہو چکی ہیں۔

مودی آئندہ ہفتے بھوٹان کے دورے پر ہوں گے۔ وزیر خارجہ بنگلہ دیش جا رہی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹروں کی ملاقات ہونے والی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں چین کے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ دلی آئیں گے۔

جاپان کے وزیر خزانہ بھی دلی آنے والے ہیں۔ امریکہ کے صدر سے مودی کی ملاقات کی تاریخ طے کی جا رہی ہے۔ مودی نے حکومت کو اتنے تیزگیئر میں رکھا ہے کہ ان کے بہت سے ساتھیون کو اپنی روش بدلنی پڑے گی ۔

وزیر اعظم مودی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساری توجہ ترقی کے ایجنڈے پر مرکوز ہے ۔اور وہ ہر ہفتے ساری وزارتوں کے کام کاج کا جائزہ خود لیں گے ۔

مودی حکومت نے ابھی تک پونے میں مسلمان کے قتل اور کتابوں پر پابندی جیسے اہم سوالوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

آئندہ ہفتے پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں صدر مملکت پرنب مکرجی مودی حکومت کی پالیسیوں کا خاکہ پیش کریں گے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت عدم رواداری اور مذہبی منافرت کے کلچر کی مذمت کرے گی۔ وزیر اعظم مودی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مذہی منافرت، کتابوں پر پابندی اور فسادات صرف جمہوریت کے ہی منافی نہیں ہیں۔ یہ ترقی کے ان کے ایجنڈے سے بھی قطعی مطابقت نہیں رکھتی۔

اسی بارے میں