عام آدمی پارٹی میں خلفشار

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY GUPTA
Image caption کیجری وال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی میں جمہوریت کی کمی پر پارٹی کے کئی سرکردہ رہمنا بدظن ہیں

بھارت میں اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی جس تیزی سے مقبول ہوئی تھی اسی تیزی سے اب اندرونی چپقلش کا بھی شکار ہو رہی ہے۔

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں خراب مظاہرے کے بعد اس کی اعلیٰ قیادت کےدرمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔

پہلے پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے ایک، شازیہ علمی نے یہ الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ مٹھی بھر لوگوں نے اروند کیجریوال کو گھیر رکھا ہے اور پارٹی میں اختلاف رائے اور اندرونی جمہوریت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

لیکن جواب میں ٹی وی کے کیمروں کےسامنے پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں’بہن شازیہ‘ کا بڑا یوگدان (تعاون) تھا اور انھیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ لیکن کیمروں سے ہٹ کر صحافیوں کویہ بھی بتایا گیا کہ شازیہ علمی دہلی سے پارلیمان کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناراض تھیں اور اگر پارٹی کے کام کرنے کے طریقے سے وہ مطمئن نہیں تھیں تو انھیں اپنی تشویش پارٹی کے فورموں پر ظاہر کرنی چاہیے تھی۔

شازیہ علمی نے کہا کہ انھوں نے بہت مرتبہ یہ مسائل اٹھائے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس کے بعد پارٹی کے تین بڑے چہروں میں سے ایک یوگیندر یادو نے بھی اندرونی جمہوریت کے سوال پر پارٹی کے سیاسی امور سے متعلق کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ جواب میں اروند کیجریوال کے قریبی معتمد منیش سیسودیا نے ان کے خلاف ایک سخت خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کیا وہ پارٹی اور کیجریوال کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟

مسٹر یادو کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں کیا گیا ہے اور امکان یہ ہے کہ انھیں منا لیا جائے گا لیکن منیش سیسودیا کے خط اور مسٹر یادو کے تحریری جواب کے لب و لہجے سے لگتا نہیں ہے کہ یہ اختلافات آسانی سے ختم کیے جاسکیں گے۔

منیش سیسودیا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مسٹر یادو نے پارٹی کی خواہشات کے خلاف گڑگاؤں سے پارلیمان کا الیکشن لڑنے پر اصرار کیا اور مسٹر کیجریوال کو پورے ملک میں امیدوار کھڑے کرنے پر مائل کیا حالانکہ وہ صرف دہلی کی سیاست پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے۔

ہریانہ میں پارٹی کے سربراہ نوین جے ہند نے کہا کہ جب تک مسٹر یادو کی بات مانی جاتی رہی’انھیں اندرونی جمہوریت کا خیال کیوں نہیں آیا؟‘

عام آدمی پارٹی اپنے مضبوط قلعے دہلی میں بھی کوئی سیٹ نہیں جیت سکی لیکن حیرت انگیز طور پر اسے پنجاب سے لوک سبھا کے چار حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ شاذیہ علمی دراصل دہلی سے پارلیمان کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں

پارٹی ہریانہ میں مسٹر یادو کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ یوگیندر یادو انتخابی جائزوں کے ماہر ہیں اور ان کا خیال تھا کہ ہریانہ میں پارٹی کو 23 فی صد ووٹ ملیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ خود گڑگاؤں میں چوتھے نمبر پر رہے۔

400 سے زیادہ سیٹوں پر امیدوار کھڑا کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی کے اعلیٰ رہنما وسائل اور ورکروں کی کمی کی وجہ سے موثر انداز میں انتخابی مہم نہیں چلا سکے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے ختم ہو جائے گی کیونکہ پنجاب میں اس کا مظاہرہ اچھا رہا ہے اور دہلی میں بھی اس نے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پارٹی کے کام کاج کے طریقے سے متوسط طبقہ بدظن ہوا ہے کیونکہ اسے مستقل احتجاج کی سیاست پسند نہیں آتی۔

سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ ’ہر بات پردھرنے پر بیٹھنے اور سب کو بے ایمان قرار دینے کی پالیسی کا منفی اثر ہوا ہے اور عام آدمی پارٹی کو اگر سیاسی اکھاڑے میں پیر جمانے ہیں تو اسے حکمرانی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اور اس کے لیے اسے بدعنوانی کے خلاف اپنی کامیاب تحریک کو ایک فعال سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

Image caption یوگیندر یادو کے خیال میں بھی پارٹی میں جمہوری اقدار کی کمی ہے

سیاسی تجزیہ نگار پرشوتم اگروال کہتے ہیں کہ ’اروند کیجریوال کی ہمت ان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ اسی ہمت کی وجہ سے وہ بڑی سیاسی طاقتوں سے ٹکرائے لیکن جب یہ ہمت ایک ضد میں بدل جاتی ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے باقی سب بے وقوف ہیں، تو یہ ان کی کمزوری بن جاتی ہے۔‘

ٹی وی پر بحث مباحثوں میں بھی یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی ایک مختلف انداز کی سیاست کے وعدے کے ساتھ سیاسی افق پر ابھری تھی لیکن اب اس میں اور باقی پرانی پارٹیوں میں کیا فرق ہے؟

بنیادی تنقید اس بات پر ہے کہ ’اروند کیجریوال ہی عام آدمی پارٹی ہیں‘ اور مایاوتی، ملائم سنگھ، ممتا بنرجی اور جیا للتا کے انداز میں ہی اپنی پارٹی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پارٹی ’بہت جلدی اور بہت زیادہ‘ حاصل کرنے کی کوشش میں لڑکھڑائی اور پہلے اسے اپنی پالیسیوں اور کام کاج کے قواعد و ضوابط کو واضح شکل دینی چاہیے۔

خود اروند کیجریوال یہ مانتے ہیں کہ صرف 49 دن میں دہلی کی حکومت چھوڑ کر انھوں نے غلطی کی تھی۔ اب چند ہی مہینوں کے اندر دہلی میں پھر ریاستی اسمبلی کے انتخابات کرائے جانے کا امکان ہے اور پارٹی نے تازہ انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔

اس وقت ملک میں نریندر مودی کی لہر ہے اور ایسے ماحول میں دہلی کے انتخابات اس کے لیے سخت آزمائش ہوں گے۔ اگر وہ جیت جاتی ہے تو دوسری ریاستوں کے راستے کھل سکتے ہیں، اور اگر ہار گئی تو اس کے بکھرنے کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں