بھارت: مظفرپور میں پراسرار بیماری میں درجنوں بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Varsha Rani
Image caption بہار کے شمالی ضلعے مظفرپور میں اس نامعلوم بیماری سے متاثر بچے بڑی تعداد میں ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے شہر مظفرپور کے سرکاری ہسپتالوں میں نامعلوم بیماری سے گذشتہ روز ہفتے کی دوپہر تک 19 بچوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 70 بچوں کا علاج مختلف سرکاری ہسپتالوں میں جاری ہے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائي جا رہی ہے۔

دریں اثنا صحت کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے بہار اور اترپردیش کے چیف سیکریٹریز برائے صحت سے ملاقات کی اور ان سے تفصیلات دریافت کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دہلی سے ماہرین کی ایک ٹیم اتوار کو مظفرپور کے لیے روانہ ہو رہی ہے اور ممکنہ طور پر وہ سوموار کو اس پراسرار بیماری کے متعلق مرکز کو رپورٹ روانہ کرے گي۔

بہار کے چیف سکریٹری برائے صحت دیپک کمار نے بچوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: ’اس علاقے میں یہ بیماری گذشتہ کئی سالوں سے نظر آتی رہی ہے تاہم گذشتہ دو تین برسوں میں کثیر تعداد میں بچے اس کا شکار ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کی اموات کا سلسلہ مئی کے آخر میں شروع ہوا تھا۔ اس بیماری کے اسباب کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے لیکن حفاظتی اقدام کے طور پر ممکنہ علاج کیا جا رہا ہے۔‘

دوسری جانب مظفرپور کے ضلع مجسٹریٹ انوپم کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہلاک ہونے والے ان بچوں میں مظفرپور کے علاوہ آس پاس کے چار اضلاع کے دیہی علاقوں کے بچے بھی شامل ہیں۔‘ انوپم کمار کا کہنا تھا کہ مظفرپور کے علاوہ جن چار اضلاع کے بچے اس بیماری کی زد میں آئے ہیں ان میں مشرقی چمپارن، ویشالی، سیتامڑھی اور شیوہر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Varsha Rani
Image caption گذشتہ چند برسوں سے گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی مظفرپور اور اس سے ملحق اضلاع میں ایسی ہی بیماری پھیل جاتی ہے جس کی زد میں آکر اب تک سینکڑوں بچے ہلاک ہو چکے ہیں

مقامی میڈیا میں مرنے والے بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

اس بارے میں انوپم کمار نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس انھی بچوں کے متعلق ریکارڈز ہیں جن کی موت سرکاری ہسپتالوں میں ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر کچھ بچوں کی موت گاؤں یا پھر نجی ہسپتالوں میں ہوئی ہوگی تو اس سلسلے میں انھیں معلومات نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بچوں میں ایکیوٹ انفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس) کی علامات سامنے آئی ہیں۔ اس بیماری کے بارے میں تفصیلات جانچ کے نتائج آنے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔

اس بیماری سے حفاظت اور اس کی روک تھام کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں مظفرپور ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ ’اس کے بارے میں وسیع پیمانے پر اطلاعات فراہم کی جا رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ rakesh kumar
Image caption بہار میں اس سے قبل بھی مختلف قسم کی پراسرار بیماریوں کا حملہ رہا ہے

انھوں نے بتایا کہ اس کے لیے تمام صحت مراکز پر ایمبولنسز تعینات کر دی گئی ہيں۔

ان کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے یہ بھی نشر کیا جا رہا ہے کہ لواحقین بچوں کو دھوپ میں نہ جانے دیں اور انھیں خالی پیٹ نہ رہنے دیں۔

گذشتہ چند برسوں سے گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی مظفرپور اور اس سے ملحق اضلاع میں ایسی ہی بیماری پھیل جاتی ہے جس کی زد میں آکر اب تک سینکڑوں بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں