تاج محل پر مٹی کا لیپ ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تاج محل اقوام متحدہ کی نادر و نایاب عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے

بھارت میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخی یادگار تاج محل پر آلودگی سے پڑنے والے بدنما داغوں کو ختم کرنے کے لیے مٹی کا لیپ کیا جائے گا۔

بھارتی حکام کے مطابق آلودگی کی وجہ سے عمارت کی دیواروں پر پیلے نشان پڑ گئے ہیں جن کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ دیواروں پر مٹی کا لیپ کردیا جائے۔

تاج محل آگرہ کے قریب واقع ہے جہاں شدید فضائی آلودگی پیدا کرنے والی کئی فیکٹریاں ہیں۔ تاج محل کی دیواروں کو صاف کرنے کے لیے یہ طریقہ چوتھی مرتبہ استعمال کیا جارہا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ مٹی کے لیپ سے تاج محل کے سفید سنگِ مرمر کی قدرتی چمک دمک بحال ہو جائے گی۔

بھارت کے آثارِ قدیمہ کے محکمے آرکیالوجیکل سروے کے اہلکار بی ایم بہاتنگر نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ’ شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے سفید سنگِ مر مر اپنی چمک کھو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے کے کیمیکل ڈیپارٹمنٹ نے پہلے سے ہی تاج محل کو لیپنے کے لیے مٹی تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

یہ چوتھی دفعہ ہے کہ 17ویں صدی کی اس یادگار کومٹی کا لیپ دیا جائے گا۔ ماضی میں اسے سنہ 2008 میں لیپ دیا گیا تھا لیکن اس علاقے میں آلودگی زیادہ ہونے کی وجہ سے ماہرین کہتے ہیں کہ اب پھر اس کی صفائی ضروری ہے۔

اس سے پہلے صفائی کے لیے اسے سنہ 1994 اور سنہ 2001 میں مٹی سے لیپا گیا تھا۔

تاج محل ساڑھے تین سو برس قدیم ہے لیکن اس کی سنبھال میں بےتوجہی برتی گئی ہے۔ طویل العمری کے اثرات تاج محل پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ فضائی آلودگی کے سبب چمکتا ہوا سنگ مرمر پھیکا پڑ رہا ہے اور کئی بار شوٹنگ اور موسیقی کے پروگراموں کی تیز روشنیوں کے سبب بھی اسے نقصان پہنچا ہے۔

تاج محل اقوام متحدہ کی نادر و نایاب عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ حکومت نے اس کے تحفظ کے لیےاس کے آس پاس کثافت پھیلانے والی فیکٹریوں کو ممنوع قرار دیا ہے اور عمارت کی مرمت کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھی مقرر کی ہے۔

اسی بارے میں