افغان صدارتی انتخاب کا حتمی مرحلہ کل

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی
Image caption دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے کوئی ایک صدر حامد کرزئی کی جگہ لینے کا حقدار بن جائے گا

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے سنیچر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

دو ماہ پہلے ہونے والے پہلے مرحلے میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد انتخابی عملے کے ہزاروں افراد کو برطرف کیا جا چکا ہے۔

بی بی سی افغان کے نامہ نگاروں نے دوسرے مرحلے کی پولنگ میں زیادہ اہمیت رکھنے والے علاقوں کے دورے کیے ہیں۔

ہرات: ہارون نجف زادہ

ہرات میں پہلے مرحلے کے ایک لاکھ ووٹ مسترد کیے گئے تھے۔ اور اب بھی وہاں مایوسی اور یقین کے ملے جلے جذبات ہیں اور لوگ توقع رکھتے اس بار ووٹنگ زیادہ شفاف ہو گی۔ کابل نے بہت سے مسترد ووٹوں کو دوبارہ ووٹ ڈالنے کا حق دیا ہے۔

صوبہ جوزجان: ندا کارگر

اپریل اور مئی میں یہاں شدید سیلاب آئے اور ہزارہا لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ سیلاب میں وہ ووٹنگ کارڈوں سمیت اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔

ان میں سے اکثر نے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے تھے لیکن اب وہ حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

قندھار: مامون درانی

قندھار میں دوسرے مرحلے کے دونوں امیدواروں کو مقابلے میں زلمے رسول کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اب چونکہ وہ دوسرے مرحلے میں نہیں تو دونوں امیدواروں نے یہاں زیادہ زور لگایا ہے۔

برادریوں اور قبائل کے نظام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے ہر ممکن رابطہ استعمال کیا ہے۔

قندھار پشتون اکثریتی علاقہ ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ووٹ لسانی بنیادوں پر ڈالے جائیں۔ دونوں صدارتی امیدواروں کو نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے جو گلیوں بازاروں میں جلوس نکالتے رہتے ہیں۔ لیکن کون امیدوار زیادہ پسندیدہ ہے، اس کا فیصلہ آسان نہیں۔

صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے غیرحتمی نتائج کے مطابق الیکشن میں کُل 6617666 ووٹ ڈالے گئے۔ مردوں میں ووٹنگ کا تناسب 64 فیصد جبکہ خواتین میں 36 فیصد رہا۔

پہلے مرحلے میں سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ 44.9 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے۔ انھوں نے 29 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے۔

انھیں قریب ترین حریف اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی پر 13 فیصد کی مجموعی برتری حاصل رہی جو 31.5 فیصد یعنی 20 لاکھ 89 ہزار ووٹ ہی لے سکے۔

تیسرے نمبر پر آنے والے زلمے رسول صرف سات لاکھ 59 ہزار ووٹ ہی حاصل کر سکے۔

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے جو بھی نیا صدر منتخب ہو گا وہ ملک کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو ملک میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اب تک اس عہدے پر فائز رہنے والی واحد شخصیت ہیں۔

عبداللہ عبداللہ سنہ 2009 کے انتخاب میں صدر کرزئی کے خلاف اہم امیدوار تھے اور انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبدللہ کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

تاہم عبدللہ عبداللہ نے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتحابات کا پہلا مرحلہ شفاف نہیں تھا جس کے نتیجے میں افغان الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی کو فاتح قرار دیا تھا اور وہ صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

اشرف غنی بھی 2009 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار تھے مگر جیت نہ پائے۔ حامد کرزئی نے صدارت کے اپنے دوسرے دور میں انھیں بین الاقوامی افواج سے افغان افواج کو کنٹرول دینے کا کام سونپا۔ وہ سنہ 2002 سے 2004 تک وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں