ممبئی کی نڈر خواتین جاسوس

تصویر کے کاپی رائٹ rajni
Image caption رجنی پنڈت 15 سال سے نجی طور پر جاسوسی کا کام کر رہی ہیں

پولیس کو اس عورت پر شک ہے کہ اسی نے اپنے شوہر اور بیٹے کا قتل کیا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ انھیں کسی بھی طرح ثبوت نہیں مل پا رہے ہیں۔

ایسی صورت میں پولیس رجنی پنڈت سے مدد لیتی ہے، اور اس کیس کو حل کرنے کے لیے رجنی اس خاتون کی ملازمہ بن کر اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ وہ خاتون رجنی کا انٹرویو لیتی ہیں اور پھر پوچھ گچھ کے بعد اپنے مکان پرانھیں ملازم رکھ لیتی ہیں۔ یہیں سے رجنی کا مشن شروع ہوتا ہے۔

یہ کسی تھرلر فلم کی کہانی نہیں بلکہ اصل زندگی کا واقعہ ہے۔

پولیس نے رجنی پنڈت نامی خاتون سے مدد لی وہ 25 برسوں سے جاسوسی کا کام کر رہی ہیں اور انھوں نے بہت سے پیچيدہ کیس حل کیے ہیں۔

آخر رجنی نے اپنے شوہر اور بیٹے کی قاتلہ کو کیسے پکڑا؟

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے رجنی نے بتایا: ’اس خاتون کے رشتے داروں اور پڑوسیوں کو اس پر شک تھا۔ میں نے ابتدا میں اس کے گھر پر جھاڑو لگایا، کھانا پکایا اور پھر آہستہ آہستہ وہ مجھ پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے لگیں اور اس طرح میں نے اس کے خلاف ثبوت جمع کرنے شروع کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ایک جاسوسی فلم کی افتتاحی تقریب میں رجنی پنڈت کو بھی مدعو کیا گیا

’اس نے جن کرائے کے قاتلوں کو پیسے دیے تھے وہ اس سے ملنے ایک بارگھر آئے۔ میں نے ان کی بات چیت سن لی، پھر ثبوت جمع کیے اور پولیس کو سونپے۔ اس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔‘

رجنی پنڈت جب 21 برس کی تھیں تبھی سے انھیں جاسوسی کا چسكا لگ گیا تھا۔

اس کے آغاز کے متعلق انھوں نے بتایا: ’بڑا چیلنج تھا۔ پہلے تو اخبار والے میرا اشتہار بھی شائع نہیں کرتے تھے۔ میرا مذاق اڑایا جاتا تھا، مجھے کلائنٹ نہیں ملتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ عورتوں کے پیٹ میں تو کوئی بات ہی نہیں رہتی، تو آپ کیا جاسوسی کریں گی۔‘

لیکن آہستہ آہستہ رجنی کا کام چل نکلا اور لوگ ان کے پاس کیس لے کر آنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ komal ajay kappor
Image caption کومل اجے کپور کا جاسوسی نام کے لیڈی ہے

رجنی کو جاسوسی کے لیے بڑے ناٹک کرنے پڑتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’مجھے کئی بار گونگا اور بہرا بننا پڑا۔ میں نے کئی بار نابینا بننے کی ایکٹنگ کی۔ کئی بار کوئی کیس دو گھنٹے میں حل ہو جاتا ہے تو کبھی کسی کیس کو حل کرنے میں ایک سال تک لگ جاتا ہے۔‘

رجنی پنڈت کے پاس فوجداری مقدمات کے علاوہ گھریلو کیس اور کارپوریٹ کیس بھی آتے ہیں۔ کئی بار کوئی بڑا افسر اپنے ماتحت ملازمین پر نظر رکھنے کے لیے بھی جاسوسوں کی مدد لیتا ہے۔

رجنی اپنی فیس دن یا گھنٹوں کے حساب سے لیتی ہیں۔ وہ عام طور پر آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے دس سے 12 ہزار روپے تک وصول کرتی ہیں۔

خواتین جاسوسوں کی دنیا میں رجنی کسی ’سیلیبریٹی‘ سے کم نہیں ہیں۔ شیوسینا کے سابق سربراہ بال ٹھاکرے نے ان کے متعلق سن کر ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کے بعد رجنی نے ٹھاکرے سے ملاقات کی تھی۔

رجنی نے جب اپنے تمام کیس سٹڈیز پر مشتمل کتاب لکھی تو اس کی رونمائی کرنے مشہور اداکار دلیپ کمار آئے تھے۔

جاسوسی کی دنیا میں الجھی رجنی کو شادی کے لیے وقت ہی نہیں ملا لیکن انھیں اس کا قطعی افسوس نہیں ہے۔

رجنی پنڈت نے تو شادی نہیں کی لیکن ایک اور خاتون جاسوس منجري سروے کے شوہر اور بچے ہیں، لیکن ان کا جاسوسی کا جنون برقرار ہے۔

منجري کے جاسوس بننے کی کہانی پنکج کپور کے ٹی وی سیریل ’كرم چند‘ سے شروع ہوئی۔ اس کردار کو دیکھ کر وہ اتنی متاثر ہوئیں کہ انھوں نے بھی جاسوسہ بننے کی ٹھان لی۔

منجری اپنی ایک مشکل مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’ایک عورت کو اپنے شوہر پر شک تھا۔ اس کا شوہر ایک بڑے ہوٹل میں افسر تھا اور میں نے اس پر نظر رکھنے کے لیے اس ہوٹل میں تین ماہ تک استقبالیہ کلرک کی نوکری کی اور اس کے شوہر پر نظر رکھی۔‘

’وہ کن کن خواتین سے ملتا ہے، میں نے سب کی فہرست بنائی۔ آفس کا کام ختم ہونے کے بعد وہ کہاں کس سے ملتا ہے اس کا بھی پتہ لگایا اور پھر اس کی بیوی کو بتایا۔‘

اسی طرح 15 برسوں سے کومل اجے کپور بھی جاسوسی کا کام کر رہی ہیں۔ وہ جاسوسی کی دنیا میں ’کے لیڈی‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ ہزار سے زیادہ کیس حل کر چکی ہیں۔

کومل اجے کپور کہتی ہیں: ’میرے پاس جو کلائنٹ آتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ خواتین جاسوسوں پر لوگ زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ جاسوسی کی دنیا کا اصول ہے کہ ہم اپنے کلائنٹ کا نام کسی کو نہیں بتاتے۔ میرے پاس جو زیادہ تر کیس آتے ہیں وہ شوہر اور بیوی کے شک کے معاملات والے ہوتے ہیں۔‘

کومل نے بتایا کہ بہت سے کیسوں کو حل کرنے کے لیے انھیں بھکاری اور یہاں تک کہ مرد بھی بننا پڑا۔

اس وقت کومل کی زیرِ نگرانی 70 سے زیادہ نئے جاسوس تربیت لے رہے ہیں۔

ان کے نام اور کام کو دیکھتے ہوئے بالی وڈ کی اداکارہ ودیا بالن نے جاسوسی پر مبنی اپنی آنے والی فلم ’بابی جاسوس‘ کے مہورت کے موقعے پر کومل اجے کپور کو مدعو کیا تھا۔

اسی بارے میں