’ہر کوئی خزانے کی امید کر رہا تھا ‘

صندوق
Image caption یہ صندوق قدیمی ہیں اور بہت وزنی بھی ہیں

بھارت کے شہر کولکتہ میں خزانے کی امید میں لوہے کے تین قدیم صندوق جب کاٹےگئے تو یہ خالی نکلے۔

تقریباً ایک ہزار کلو گرام کے یہ صندوق کئی برس پہلے ایک مکان کی کھدائی میں ملے تھے۔

مکان کی پرانی مالکہ اور موجودہ مالک نے صندوق کے ممکنہ خزانے کی ملکیت کے لیے مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔

یہ صندوق عدالت کے حکم پر کاٹے گئے۔

سخت پہرے میں تینوں صندوقوں کو کولکتہ کے گریا ہاٹ پولیس سٹیشن لایا گیا۔ پولیس سٹیشن کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔

فائر بریگیڈ کے عملے نے لوہا کاٹنے والی جدید مشینوں سے انھیں کاٹا۔

جب لوہے کی چادر ہٹائی گئی تو صندوق خالی تھے۔ ایک افسر ٹی کے دتا نے بتایا ’صندق کے اندر کچھ پرانا طبی سامان اور چاندی کے کچھ اوزار ہیں لیکن اس میں کوئی خزانہ نہیں جس کی امید کی جا رہی تھی‘۔

لوہے کی یہ صندوق چند برس قبل ایک پرانے مکان کی کھدائی میں ملے تھے۔ اس مکان کو جوتے بنانے والی ایک کمپنی نے خریدا تھا۔

صندوق ملنے کے بعد مکان کی سابقہ مالک نے ممکنہ خزانے کی امید میں صندوق کی ملکیت کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

کولکتہ ہائی کورٹ کے حکم پر ہی پیر کو یہ صندوق کاٹے گئے۔ مکان مالکہ شیاملی داس نے مایوسی کے لہجے میں کہا ’اگر خزانہ ملتا تو میں اسے حکومت کو دے دیتی‘۔

یہ صندوق بہت بھاری اور قدیم تھے جس کے سبب ہر کوئی یہ امید کر رہا تھا کہ ان میں خزانہ چھپا ہوا ہے۔

کچھ عرصے پہلے اتر پردیش کے ایک سرکردہ سادھو نے مبینہ طور پرایک قدیم مندر کے نزدیک سینکڑوں ٹن سونا دبا ہونے کا خواب دیکھا تھا۔

سادھو نے دعویٰ کیا تھا کہ اس خزانے سے بھارت کا سارا غیر ملکی قرض ادا ہو جائے گا۔سادھو کی ایما پر مندر کی کھدائی کی گئی۔ وہاں کھدائی میں شیشے کی کچھ چوڑیاں اور مٹی کے کچھ ٹوٹے ہوئے برتن ملے تھے ۔ سادھو اس کے بعد سے مراقبے میں چلے گئے ہیں۔

اسی بارے میں