’عالیشان پاکستان‘ دہلی میں

Image caption دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں بہت سی سرکاری رکاوٹیں حائل ہیں

پاکستان کی ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی بھارت کے ایوان صنعت و تجارت کے اشتراک سے دہلی میں ایک تجارتی نمائش کا اہتمام کر رہی ہے۔

دونوں ملکوں کے اشتراک سے ستمبر میں منعقد کی جانے والی اس نمائش میں سے سو سے زیادہ پاکستانی کمپنیاں حصہ لیں گی۔

اس موقعے پر ایک فیشن شو کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ دہلی میں نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد اس نمائش کو دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اچھا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔

دہلی میں پاکستانی نمائش کے اہتمام کا اعلان بھارت کے ایوان صنعت و تجارت (فکی) کے صدر دفتر پر دونوں ملکوں کے مندوبین کی ایک میٹنگ میں کیا گیا۔

یہ نمائش 11 سے 14 ستمبر تک چلے گی اور اس کا نام ’عالیشان پاکستان‘ رکھا گیا ہے۔ یہ اس نوعیت کی دوسری نمائش ہو گی، لیکن اس بار یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور بڑی ہوگی۔ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ آف پاکستان کے سربراہ ایس ایم منیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا:

’ہم بہت بڑی نمائش کا اہتمام کر رہے ہیں۔اس سے پہلے بھارت نے لاہور میں ایک نمائش کی تھی جو انتہائی کامیاب رہی۔ جو چیزیں ہمیں یہاں سستی مل جائیں تو ہم دوسری جگہوں سے کیوں خریدیں؟ اسی طرح بھارت کو جو مصنوعات پاکستان میں سستی ملتی ہیں تو وہ کیوں نہ پاکستان سے خریدے۔‘

ملبوسات، زیورات ، فرنیچر اور پاکستانی دستکاری کی مصنوعات کی اس نمائش کا حصہ ہوں گی۔ پاکستان کی بڑی بڑی کمپنیاں اس میں حصہ لیں گی۔ نمائش سے پہلے ایک فیشن شو کا بھی اہمتمام کیا جائے گا۔ پاکستانی نمائش کو ایک بڑے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

’لائف سٹائل پاکستان‘ کی نمائندہ رابعہ جاویری آغا نے کہا: ’سارک ملکوں سے بھارت کی تجارت صرف پانچ فی صد ہے، جبکہ پوری دنیا سے وہ 300 ارب ڈالر کی تجارت کرتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان میں زبردست امکانات ہیں اور اب وقت آ گیا ہے۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں بہت سی سرکاری رکاوٹیں حائل ہیں۔ صنعت کار اور تاجر ان رکاوٹوں کو ایک عرصے سے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

بھارت کی ایوان صنعت و تجارت کے نائب صدر ڈاکٹر جیوتسنا سوری کا خیال ہے کہ ان رکاوٹوں کو ختم کر کے تجارتی تعققات کو زبردست وسعت دی جا سکتی ہے: ’کچھ سہولیات کی ضرورت ہے۔ اس مرحلے پر بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ جیسے جیسے ماحول کھلے گا اور رکاوٹیں دور ہوں گی، ہر شعبے میں تجارت بڑھے گی۔‘

بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات بس برائے نام رہے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے وسیع امکانات ہیں۔ لیکن اقتصادی رشتوں کے فروغ کے لیے دونوں حکومتوں کو سیاسی سطح پر بڑے قدم اٹھانے ہوں گے۔

اسی بارے میں