’ووٹوں کی گنتی فوری طور پر روک دی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے لیے سنیچر کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تھا

افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد ووٹوں کی گنتی میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان کے حریف اشرف غنی کو فائدہ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں انتخابی حکام پر یقین نہیں ہے اور انھوں نے اپنے مانیٹروں کو انتخابی دفاتر چھوڑنے کا کہا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے لیے سنیچر کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تھا۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج دو جولائی تک متوقع ہیں جب کہ حتمی نتائج 22 جولائی تک آئیں گے۔

عبداللہ عبداللہ کرزئی حکومت میں وزیرِخارجہ رہ چکے ہیں جب کہ اشرف غنی ورلڈ بینک کے سابق ماہر اقتصادیات ہیں۔

ان انتخابات کے ذریعے پہلی بار جمہوری طور پر اقتدار کی منتقلی کا عمل سامنے آئے گا۔

دو ماہ پہلے ہونے والے پہلے مرحلے میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد انتخابی عملے کے ہزاروں افراد کو برطرف کیا جا چکا ہے۔

صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے غیرحتمی نتائج کے مطابق الیکشن میں کُل 6617666 ووٹ ڈالے گئے۔ مردوں میں ووٹنگ کا تناسب 64 فیصد جبکہ خواتین میں 36 فیصد رہا۔

پہلے مرحلے میں سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ تقریباً 45 فی صد ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے تھے۔

اسی بارے میں