’افغانستان میں القاعدہ واپس نہیں آ سکتی‘

Image caption ’وہ (طالبان) اکیلے امن نہیں لا سکتے جیسے میں، افغان حکومت اور عوام اکیلے امن نہیں لا سکتے‘

صدر حامد کرزئی نے اس امکان کو رد کر دیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سے منسلک گروہ دوبارہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ سے بات کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ جو عراق میں ہو رہا ہے، وہ افغانستان میں کبھی نہیں ہو سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ موجود نہیں ہے۔

افغانستان سے اس سال کے آخر میں نیٹو افواج انخلا کر رہی ہیں اور کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ ملک میں اسلامی شدت پسندی کے حوالے سے عراق جیسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم افغان صدر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد صدر بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ افغان گھروں اور دیہاتوں میں نہیں لڑی جانی چاہیے تھی۔ بظاہر پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ جنگ افغانستان کی سرحدوں سے باہر (شدت پسندوں کی) پناہ گاہوں میں لڑی جانی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا: ’میرا خیال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایمانداری سے نہیں لڑی گئی اور اس کے نتائج پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔‘

صدر کرزئی نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’وہ مجھ سے روزانہ رابطہ میں ہوتے ہیں۔ خطوط کا تبادلہ، ملاقاتیں اور امن کا مطالبہ بھی ہے۔ مگر وہ (طالبان) اکیلے امن نہیں لا سکتے جیسے میں، افغان حکومت اور عوام اکیلے امن نہیں لا سکتے۔‘

صدر نے کہا کہ جن معاملات میں ان کا ملک خود کفیل نہیں، ان معاملات میں انھیں بین الاقوامی امداد کے تسلسل کی ضرورت ہے۔

صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کا تحفظ افغانوں کا کام ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے 2014 کے بعد عسکری معاہدے کے سلسلے میں امریکی پیشکش مسترد کر رکھی ہے۔ تاہم افغان صدر کے عہدے کے لیے دونوں صدارتی امیدوار سابق وزیرِ خارجہ عبد اللہ عبد اللہ اور ورلڈ بینک کے سابق ماہرِ اقتصادیات اشرف غنی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے افغانستان عراق جیسے حالات سے بچ سکتا ہے۔

صدر حامد کرزئی 2001 میں افغانستان میں طالبان حکومت گرائے جانے کے بعد سے اب تک افغانستان کے صدر ہیں، تاہم دو بار صدارتی عہدہ حاصل کرنے کے بعد اب انھیں قانونی طور پر تیسری بار انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔

اسی بارے میں