پاک افغان سرحد پر نیٹو سپلائی کے اڈے پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تورخم میں نیٹو سپلائی کا یہ اڈّہ افغانستان میں بین الاقوامی افواج کو سامان کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے

افغانستان میں پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی صبح پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب نیٹو سپلائی کی ایک اڈّے پر خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا ہے۔

یہ حملہ افغانستان کے ننگرہار صوبے میں تورخم کے قریب اڈے پر کیا گیا ہے۔

بارڈر پولیس کے ترجمان ادریس مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ تین میں سے دو حملہ آوروں کو موقعے ہی پر ہلاک کر دیا گیا جبکہ تیسرے حملہ آور کو پکڑ لیا گیا۔

انٹرنیشنل جوائنٹ کمانڈ نے کہا ہے کہ اس حملے میں آئیسیف کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں 37 گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ حملہ آور بھاری ہتھیاروں، گرینیڈوں اور مقناطیسی بموں کی مدد سے اڈے میں گھسے تھے اور انھوں نے متعدد گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

اس حملے میں حملہ آوروں کے علاوہ کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند سالوں میں پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔

ماضی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ان حملوں میں نیٹو افواج کو نہ صرف آپریشنل مشکلات کا سامنا رہا ہے بلکہ شدید مالی نقصان بھی ہوتا رہا ہے۔ طالبان کے مختلف گروہ ان کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ نومبر 2011 میں نیٹو افواج کی جانب سے پاکستانی فوج کی چوکی سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد حکومتِ پاکستان نے نیٹو رسد بند کر دی تھی۔ یہ رسد اس وقت بحال ہوئی جب اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ نے ٹیلی فون پر اپنی پاکستانی ہم منصب سے معافی مانگی تھی۔

پاکستان کے ذریعے نیٹو سپلائی ایک مرتبہ پھر اس وقت شہ سرخیوں میں آگئی جب خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار تحریکِ انصاف نے بطور حکومتی جماعت نہیں بلکہ صرف ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے نیٹو سپلائی کے راستے میں دھرنے دینا شروع کر دیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک امریکہ پاکستان میں ڈرون حملے نہیں روکتا، نیٹو سپلائی کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تحریک طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان گذشتہ سال شروع ہونے والے مذاکراتی عمل کے پیشِ نظر امریکی حکومت نے ڈرون حملے روکنے کی حامی بھری تھی جس کے بعد تحریکِ انصاف کے دھرنے ختم کر دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں