بھارتی قومی زبان ہندی پر پھر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للتا اور اپوزیشن رہنما ایم کروناندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنا احتجاج درج کرایا ہے

بھارت کے بعض علاقائی رہنماؤں نے مرکزی حکومت کی طرف سے ان ہدایات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس میں ہندی زبان کو ترجیح دینے کی بات کہی گئی ہے۔

مرکز میں نریندر مودی کی نئی حکومت نے ہدایات جاری کی تھیں کہ ملک کی قومی زبان ہندی کے فروغ کے لیے اس کا استعمال ضروری ہے اور سوشل میڈیا پر پیغامات کے لیے انگریزی کے بجائے ہندی کو ترجیح دینا چاہیے۔

مرکزی حکومت کی اس ہدایت پر سب سے پہلے تمل ناڈو کے سابق وزیراعلیٰ ایم کرونا ندھی نے اعتراض کیا لیکن اب اس مسئلے پر ریاست تمل ناڈو اور مرکزی وزارت داخلہ کے درمیان تکرار بڑھ گئی ہے۔

تمل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للتا اور اپوزیشن رہنما ایم کروناندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔

‎ خط میں وزیراعلیٰ نے لکھا ہے کہ 1968 میں ہونے والی ترمیم کے تحت سرکاری زبان کے ایکٹ 1963 کی دفعہ 3 (1) میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور غیر ہندی زبان بولنے والی ریاستوں کے درمیان بات چیت کے لیے انگریزی زبان کا استعمال کیا جائے گا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی بات چیت کی زبان انگریزی برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمل سمیت آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں کو بھارت کی سرکاری زبان قرار دینے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سوشل میڈیا میں تمام سرکاری زبانوں کو فروغ مل سکے گا۔

مرکزی وزارت داخلہ نے سرکاری اہلکاروں کو مبینہ طور پر ہدایت دی تھی کہ وہ فیس بک، ٹوئٹر، بلاگ، گوگل اور یو ٹیوب جیسی سوشل میڈیا سائٹس پر ہندی کے استعمال کو ترجیح دیں۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حکومت کی اس ہدای پر تنقید کی ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں عمر نے کہا: ’بھارت مختلف مذاہب اور زبان والا ملک ہے، یہاں ایک زبان کو مسلط کرنا ناممکن ہے۔‘

یہ تنازع کافی بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف اگر علاقائی رہنماؤں نے ہندی کے مسئلے پر مرکزی حکومت کی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے تو دوسری طرف عدالت نے ریاستی حکومت سے اس عرضی پر جواب طلب کیا ہے جس میں سکول کی سطح پر تمل کے علاوہ دوسری زبانوں کو پڑھائے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔

ادھر مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے اس تنازع پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تمام ہندوستانی زبانیں اہم ہیں۔‘

ایک انگریزی اخبار نے تمل رہنما کروناندھی کے خط کے بعض اقتباسات شائع کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ’ہندی کو ترجیح دینا غیر ہندی زبان بولنے والے لوگوں میں اختلاف پیدا کرنے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سمت میں پہلے قدم کے طور پر دیکھا جائے گا۔‘

ایم کروناندھی نے 60 کے عشرے کے دوران جنوبی ہند میں ہندی مخالف تحریک کی قیادت کی تھی اور پھر تمل ناڈو کا اقتدار حاصل کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسے وقت جب مثبت کوششوں سے تمام طبقوں کی خواہشات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے، بات چیت کی زبان میں دلچسپی لینا تقسیم کی سمت ہموار کرے گا۔‘

سابق وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں لکھا کہ ’ہم وزیر اعظم مودی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی پر توجہ دیں۔‘

تمل کے معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ کار گیانی شنكرن نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ’اس بارے میں آئین واضح ہے۔ ہندی اور انگریزی کو بات چیت کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ اب مودی حکومت انگریزی کو کنارے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

تمل ناڈو میں زبان ایک جذباتی مسئلہ رہا ہے اور ماضی میں ہندی زبان کے حوالے سے اس ریاست میں فسادات ہو چکے ہیں۔ ہندی زبان کے خلاف جنوبی ہند میں کئی بار تحریکیں تک چلائی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمل ناڈو میں زبان ایک جذباتی مسئلہ رہا ہے اور ماضی میں ہندی زبان کے حوالے سے اس ریاست میں فسادات ہو چکے ہیں

لیکن حال ہی میں ریاست کے ایک ادارہ’ایسوسی ایشن آف میٹركلویشن سكولز اینڈ مینیجمنٹ‘ نے مدراس ہائی کورٹ میں یہ درخواست دائر کی ہے کہ سکولوں میں صرف تمل ہی نہ مسلط کی جائے اور دیگر زبانوں کو پڑھانے کی اجازت دی جائے۔

ایسوسی ایشن کے وکیل آر كننن نے بی بی سی سے کہا ’دوسری ریاستوں کے بہت سے طالب علم ریاست تمل ناڈو میں ہیں اور وہ دسویں کلاس تک صرف تامل زبان میں تعلیم کے لیے مجبور ہیں۔‘

كننن نے کہا ’ہم تمل پڑھائے جانے کے خلاف نہیں ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہندی بولنے والے بچے بھی تمل سیکھیں اور تمل بولنے والے بچے ہندی۔ بہت سے تمل طلباء سکولوں سے کہا ہے کہ وہ ہندی سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے اور انہیں اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

تو کیا زبان کے مسئلے کا کوئی حل ہے؟

شكرن کہتے ہیں’ آپ کسی ہندی بولنے والے طالب علم کو اس کی خواہش کے خلاف تمل سیکھنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے اور نہ ہی تمل بولنے والے بچے کو ہندی پڑھنے کے لیے۔ اگر انگریزی ایک اضافی زبان ہے تو اس نے ایک توازن قائم کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ہندی، تمل، بنگالی، مليالم، کنّڑ اور اس طرح کی دیگر علاقائی زبانیں ہیں اور انگریزی بات چیت کی زبان ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں