کشمیر: جھڑپ میں شدت پسند ہلاک اور علیحدگی پسندوں پر پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی فوج کے مطابق کارروائی میں مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے ارکان کو ہلاک کیا گیا

بھارتی لوک سبھا کے لیے مرحلہ وار انتخابات کے بعد بھارتی زیرانتظام کشمیر کے حالات بظاہر پرسکون ہی تھے، لیکن گذشتہ چند روز کے دوران بم دھماکوں اور مسلح تصادموں کے کئی واقعات سےغیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

پولیس اور فوج نے الگ الگ بیانات میں جمعرات کی شب جنوبی قصبہ تارال میں ایک مسلح تصادم کے دوران تین مقامی شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے ڈویژنل کمانڈر عادل میر اپنے ساتھیوں عادل شاہ اور طارق کے ہمراہ بُوچُھو گاؤں میں چھپے تھے۔

فوجی ترجمان کے مطابق فوج اور پولیس کے مشترکہ دستے نے ایک مکان کا محاصرہ کیا جس کے بعد شدید تصادم شروع ہوا اور بالآخر تینوں شدت پسند مارے گئے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ دو فوجی اہلکار بھی معمولی زخمی ہوگئے۔

واضح رہے چند روز قبل بھارت کے وزیردفاع ارون جیٹلی نے سرینگر میں فوج، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے اجلاس کی صدارت کی اور بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کے ذریعے یہاں داخل ہونے والے مسلح شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ لیکن ہماری فوج دراندازوں کے منصوبے ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ بھارتی وزیردفاع کے دورے سے دو روز قبل 18 جون کی صبح بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی افواج نے پونچھ سیکٹر کی کئی دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور مینڈھر قصبے کے بعض دیہات میں پاکستانی فوج کے فائر کیے ہوئے مارٹر گولے بھی گرے جس کی زد میں آ کر کچھ مویشی ہلاک ہوگئے۔

اسی دوران بھارتی اور عالمی میڈیا نے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں القاعدہ کی طرف سے کشمیر میں بھارت مخالف ’جہاد‘ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس ویڈیو پر علیحدگی پسند یا مسلح گروپوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم وزیردفاع نے اس سلسلے میں بتایا: ’ایسی قوتیں موجود ہیں جو بھارت کو غیرمستحکم کرنا چاہتی ہیں، لیکن ہماری فوج اور سیاسی ادارے ان منصوبوں کے خلاف منظم ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعے کے روز علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کی مجوزہ عوامی ریلی کو ناکام بنانے کے لیے حکام نے سری نگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا

دریں اثنا جمعے کے روز علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کی مجوزہ عوامی ریلی کو ناکام بنانے کے لیے حکام نے سری نگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔

کشمیر کے تجارتی مرکز سری نگر میں کرفیو اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے پوری وادی میں عام زندگی متاثر ہوگئی۔ میر واعظ نے اپنی تنظیم عوامی مجلس عمل کے 50 سال مکمل ہونے پر سری نگر میں ’جشن زریں‘ کا اہتمام کیا تھا۔

ایک اور علیحدگی پسند گروپ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے 23 جون کو لال چوک سے ’کشمیر چھوڑ دو‘ تحریک چھیڑنے کا اعلان کیا ہے۔ فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر سے مکمل فوجی انخلا کے لیے پورے کشمیر میں لوگوں کو متحرک کریں گے۔ انھوں نے اس سے قبل ’سفر آزادی‘ عنوان سے جموں کشمیر کے تقریباً تمام علاقوں میں عوامی ریلیوں کا انعقاد کیا۔

اُدھر سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ انھیں مسلسل خانہ نظر بند کیا جاتا ہے، اور شہیدوں کے یادگاری سیمینار تک کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انھوں نے نریندر مودی کا نام لیے بغیر ایک بیان میں کہا: ’اٹل بہاری واجپائی نے مسئلۂ کشمیر کو انسانیت کے دائرے میں حل کرنے کی ہامی بھری تھی۔ لیکن یہاں حکومت انسانیت ہی کو پامال کر رہی ہے۔ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں پرامن سرگرمیوں کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔‘

چھ سال قبل پتھراؤ اور ہندمخالف مظاہروں کی پاداش میں گرفتار کیے جانے والے ایک نوجوان شکیل احمد بٹ کو حالیہ دنوں رہا کیا گیا۔ شکیل کو عالمی میڈیا نے ’اسلامک ریج بوائے‘ یعنی اسلامی مشتعل نوجوان کا نام دیا ہے۔

شکیل کہتے ہیں: ’کون کہتا ہے حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ آزادی کی تحریک جاری ہے۔ مجھے عمرقید بھی ہو جائے تو بھی میں ظلم کے خلاف مزاحمت کرتا رہوں گا۔‘

لیکن شکیل بٹ علیحدگی پسندوں کی آپسی محاذ آرائی سے مایوس ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہمارے رہنما الگ الگ ہڑتال کی کال دیتے ہیں۔ انھوں نے شہیدوں کو بانٹ رکھا ہے۔ الگ الگ برسیاں مناتے ہیں اور الگ الگ نظریات کی تشہیر کرتے ہیں۔

جیلوں میں جو سینکڑوں لوگ قید ہیں، انھوں نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اجتماعی مزاحمت نہیں بلکہ سیاسی مقابلے کو فروغ دے رہے ہیں جس کے لیے قوم انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مفاہمت کے بھلے ہی واضح اشارے مل رہے ہوں، لیکن پاکستان کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کا کوئی عندیہ نہیں دے رہی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سالانہ اجلاس میں معروف علیحدگی پسندوں کو مدعو کیا گیا تھا، لیکن حکومت ہند نے کسی کو سفری دستاویزات فراہم نہیں کیں۔

تاہم اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا: ’کشمیریوں کی جدوجہد صداقت پر مبنی ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں 15 فی صد لوگوں نے ووٹ ڈالے جبکہ 85 فی صد نے حق خودارادیت کی حمایت کا خاموش اعلان کیا۔‘

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت بھارت کے بارے میں علیحدگی پسندوں کا جو سیاسی لہجہ ہے پاکستان اس کی سرکاری طور توثیق کر رہا ہے۔

تجرزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اور پاکستانی کی تقریباً مبہم خارجہ پالیسی کی وجہ یہاں کے علیحدگی پسند انتخابات میں شرکت اور عدم شرکت کے سوال پر تین خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں