کابل میں خودکش دھماکہ، ستانکزئی محفوظ رہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق دھماکہ بہت زوردار تھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شخص کے ہلاک ہونے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس حملے محمد معصوم ستانکزئی بال بال بچ گئے۔ وہ اس سرکاری گروپ کے مشیر ہیں جو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا ذمہ دار ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان جنگجوؤں نے حالیہ دونوں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

دریں اثنا جنوبی افغانستان میں تین امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

نیٹو کی قیادت والی فوج ایساف کا کہنا ہے کہ ’جمعے کو ایک دیسی ساخت کے دھماکہ خیز حملے میں تین فوجی اور ایک فوجی کتا مارے گئے۔‘

مقامی افغان حکام کے مطابق یہ حملہ ہلمند صوبے کے ناد علی ضلعے میں ہوا۔

پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح ایک خود کش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو ستانکزئی کی گاڑی کے قریب اڑا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کے حامیان مبینہ دھاندھلیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں

لیکن سرکاری مشیر محفوظ رہے کیونکہ وہ بکتربند گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

خبررساں ادارے اے پی نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دھماکہ ’بہت زوردار‘ تھا۔

پولیس نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب افغان دارالحکومت میں گذشتہ ہفتے ہونے والے متنازع صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

دوسرے اور حتمی انتخابی دور میں صدر کے عہدے کے امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے گذشتہ سنیچر کو ہونے والی پولنگ میں دھاندلیوں کی شکایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اس میں دخل دینے کی مانگ کی تھی۔

پہلے مرحلے کی پولنگ میں ڈاکٹر عبداللہ کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن انھیں ضروری واضح اکثریت نہیں مل سکی تھی جس کے سبب دوسرے مرحلے کا انتخاب کرنا پڑا اور اس میں دوسرے امیدوار ان کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے اشرف غنی ہیں۔

سرکاری طور پر انتخابات کا اعلان جولائی سے قبل نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں