کشمیر میں مظاہرے کے دوران نوجوان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیر کو سری نگر اور بعض دیگر قصبوں میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر ہڑتال کی گئی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہڑتال اور پابندیوں کے دوران شمالی قصبے سوپور میں ایک طویل مسلح تصادم کے بعد مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔

فائرنگ کے واقعے میں 20 سالہ ارشد شاہ نامی نوجوان کی ہلاکت کے علاوہ چار نوجوان زخمی ہوگئے۔

یہ مظاہرے اُس وسیع فوجی آپریشن کے خلاف ہو رہے تھے جو پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر دو مسلح شدت پسندوں کے خلاف اتوار کی شب سے سوپور کی ایک بستی میں شروع کیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح تصادم کے دوران ایک شدت پسند ہلاک ہوگیا جبکہ ایک فرار ہوگیا۔ فرار ہونے والے شدت پسند کو خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی خاطر پولیس ان کی والدہ کوجھڑپ کی جگہ لائی تھی لیکن انھوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔

ایک مقامی شہری عبداللہ ڈار نے بی بی سی کو بتایا: ’جب آپریشن میں مکان زمین بوس ہوگیا تو ملبے سے ایک بندوق بردار نمودار ہوا اور فائرنگ کرتا ہوا فرار ہوگیا۔‘

فوج اور پولیس نے وسیع علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

اس واقعے کے فوراً بعد سوپور میں نوجوانوں نے سڑکوں کا رخ کیا اور بھارت مخالف مظاہرے شروع کر دیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے فرار ہونے والے شدت پسند کا تعاقب کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مشتعل مظاہرین پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور فائرنگ کی جس میں پانچ نوجوان زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سری نگر منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران نسیم باغ سوپور کے 20 سالہ ارشد علی شاہ کی موت ہوگئی۔

اس ہلاکت کے بعد سوپور میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

دوسری جانب پیر کو سری نگر اور بعض دیگر قصبوں میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر ہڑتال کی گئی۔

فرنٹ نے پیر کو سری نگر سے ’کشمیر چھوڑ دو تحریک‘ کا آغاز کیا۔

حکام نے فرنٹ کے رہنما یٰسین ملک کو عوامی ریلی کی قیادت کرنے سے قبل ہی لال چوک میں گرفتار کر لیا گیا۔ فرنٹ کی کال پر سری نگر اور وادی کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال رہی۔ ریلی کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے لال چوک اور اطراف کے علاقوں کی سخت ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ یٰسین ملک گرفتاری سے بچنے کے لیے چند روز قبل ہی روپوش ہوگئے تھے تاہم پیر کو جب وہ ساتھیوں سمیت لال چوک میں نمودار ہوئے تو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے فرار ہونے والے شدت پسند کا تعاقب کرنے میں رکاوٹ ڈالی

اس سے قبل حریت کانفرنس عمر گروپ کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کی عوامی ریلی بھی کرفیو کی وجہ سے منعقد نہیں ہو سکی۔ حریت کانفرنس ’گ‘ کے سربراہ سید علی گیلانی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس ساری صورتحال کو علیحدگی پسند رہنماؤں نے خطرناک قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سوپور میں ہونے والے تصادم سے قبل جنوبی کشمیر کے ترال قصبے میں بھی تین مقامی نوجوان ایک مسلح تصادم میں مارے گئے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران 60 غیرملکی ’پاکستانی‘ اور 42 کشمیری نوجوان مسلح جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی شدت پسندوں میں سے اکثر کالج یا یونیورسٹی سطح تک تعلیم یافتہ تھے۔

سید علی گیلانی نے اس صورتحال کا حوالہ دے کر بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو بحال کرے۔ انھوں نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران کہا: ’حکومت ہند کو دیکھنا چاہیے کہ یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوان ہتھیار اُٹھا کر مزاحمت کرنے لگے ہیں۔ وہ جانیں دے رہے ہیں۔ وہ نوکریوں یا مراعات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ حکومت کو چاہیے کہ کشمیریوں کے حق خودِ ارادیت کو بحال کرے۔‘

قابل ذکر ہے کہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ ملک میں انصاف کا بول بالا چاہتے ہیں تو کشمیریوں کے پامال حقوق بحال کیے جائیں، تاہم ابھی تک نئی دہلی نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

اسی بارے میں