تاج محل کی اصل داستان

Image caption عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ممتاز بہت خوبصورت اور علم والی شریکِ حیات تھیں لیکن بہت زیادہ بچے پیدا کرنے کے معاملے پر ان کا اپنے شوہر سے اختلاف بھی تھا

سنگِ مرمر سے تعمیر کردہ تاج محل دنیا کے عجائب میں سے ایک ہے، جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی محبت میں 17 ویں صدی میں تعمیر کیا تھا۔

لیکن حال ہی میں بھارت میں تیار کیے گئے اس سے متعلق ایک نئے ڈرامے میں اس تاریخی واقعے کو ایک ڈرامائی اور غیر متوقع موڑ دیا گیا ہے۔

’شاہ جہاں و ممتاز‘ نامی اس ڈرامے میں بتایا گیا ہے کہ محبت کرنے والوں کی اس جنت میں سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔

اس ڈرامے کو دلیپ ہیرو نے بنیادی طور پر انگریزی میں سنہ 1970 کے عشرے میں ’دی ٹیل آف تاج‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔

دلیپ ہیرو لندن کے مصنف، ڈرامہ نگار اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈرامہ سلطنت کی سب سے بڑی طاقت شاہی تخت حاصل کرنے کے بارے میں ہے۔

اب اس ڈرامے کو پہلی بار اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ممتاز شاہ جہاں کی تیسری اور سب سے زیادہ محبوب اہلیہ تھیں اور ان کی محبت کی داستان ایک انوکھی کہانی ہے۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ممتاز بہت خوبصورت اور علم والی شریکِ حیات تھیں لیکن بہت زیادہ بچے پیدا کرنے کے معاملے پر ان کا اپنے شوہر سے اختلاف بھی تھا۔

ممتاز کی موت 14ویں بچے کی پیدائش کے عمل کے دوران ہوئی تھی۔

دہلی کے ایک ڈرامہ گروپ ’پي ایروٹس ٹرپ‘ سے وابستہ ڈراموں کے ہدایت کار ایم سعید عالم کہتے ہیں: ’ان (ممتاز) کی شخصیت کا دوسرا پہلو بھی تھا جو لوگ بہت زیادہ نہیں جانتے ہیں۔ وہ واقعی خوبصورت اور فرمابردار نہیں تھیں۔ وہ شطرنج کی بہترین کھلاڑی تھیں، شاہ جہاں سے بھی زیادہ بہتر۔ وہ بہت پرعزم اور سخت جان بھی تھیں۔‘

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر فرحت حسن کہتے ہیں: ’ممتاز کے پاس اچھی خاصی سیاسی طاقت تھی اور تاریخی دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انتظامی معاملات اور سرکاری احکامات میں ان کا کافی عمل دخل تھا۔‘

اس ڈرامے کا آغاز شاہ جہاں اور ان کے بھائی کے درمیان شہنشاہ بننے کے جھگرے کے پس منظر میں دشمنی اور تلخیوں سے ہوتا ہے۔ ممتاز نے اپنے شوہر کی جیت میں اس طرح اہم رول ادا کیا کہ ان کے مخالف کو زہر دے کر مار دیا تھا۔

’مشتبہ موت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تاج محل دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے

جیسے جیسے یہ ڈرامہ آگے بڑھتا ہے ممتاز کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔

عالم کہتے ہیں: ’وہ ایک بصیرت افروز سیاسی مفکّر، ہوشیار حکمت عملی وضع کرنے والی اور بڑي منصوبہ ساز تھیں۔ ایک ایسی خاتون جو پردے کے پیچھے تو تھی لیکن ساتھ ہی (بعض معاملات میں) اپنے شوہر سے آگے بھی تھیں۔‘

اس ڈرامے کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں ایک شام حاملہ ممتاز کو شاہ جہاں کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس سین میں وہ شہنشاہ سے تخت و تاج کی شرط لگاتی ہیں اور جب شاہ جہاں ہار جاتے ہیں تو وہ تخت و تاج کی حق دار بن جاتی ہیں اور پھر ان کی خواہشیں اور سخت دلی بے لگام ہو جاتی ہے۔

شہنشاہ کو محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کو اپنی پیاری ملکہ کو روکنا ہی ہوگا۔ آخری سین میں شاہی مہر کا جھگڑا ان کے تخت و تاج سے ہٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اور پھر جلد ہی زچگی کے دوران ممتاز کی موت ہو جاتی ہے۔

لیکن اس ڈرمے میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا کہ ان کی موت محض ایک حادثہ تھا یا پھر ممتاز کو اس موت کی جانب دھکیلا گيا تھا۔

اسی بارے میں