کہیں مودی کا ترقیاتی ایجنڈہ پھسل تو نہیں رہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کی سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ججوں اور ماہرین قانون پر مشتمل ایک کالیجیم کرتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کالیجیم سے جن ناموں کی سفارش کی تھی ان میں ملک کے سابق سالیسٹر جنرل اور سرکردہ وکیل گوپال سبرامنیم بھی شامل تھے ۔ میڈیا میں لیک کی گئی اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس بیورو اور سی بی آئی کی جانب سے '' نا موافق '' رپورٹ ملنے کے سبب حکومت نے ان کا نام کالیجیم میں بھیجنے سے روک دیا ہے ۔

مسٹر گوپال نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھ کر جج کے عہدے کے لیے اپنی نامزدگی واپس لے لی ہے ۔ انھوں نے ایک خط میں عدلیہ کے حوالے سے حکومت کی روش پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک وکیل کے طور پر میری آزادی اور غیر جانبداری سے یہ اندیشہ تھا کہ میں حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، اسی لیے حکومت کی نظر مین میں ناموزوں ہوں۔

گوپال نے لکھا ہے کہ چونکہ انھوں نے گجرات میں سہراب الدین اور کوثر بی کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے قریبی معاون اور گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ کی مدد کی تھی اور اس مقدمے کو گجرات سے ممبئی منتقل کرایا تھا اس لیے بقول ان کے ان کی مخ‍الفت کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے۔

امیت شاہ جعلی انکاؤنٹر کے معاملے میں ایک اہم ملزم ہیں اور ان دنوں وہ ضمانت پر رہا ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ انھیں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا قومی صدر بنائے جانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

امیت شاہ کا مقدمہ ممبئی میں چل رہا ہے اور حال میں مقدمے کے جج نے عدالت میں ان کے پیش نہ ہونے پر تنبیہ کی تھی۔

کچھ دنوں پہلےکیرالہ میں ایک کالج کی میگزین میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈکٹیٹر کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد کئی طلبہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کر لیا گیا اور کئی طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ کالج کی میگزین بند کر دی گئی ہے۔

اس سے پہلے سوشل میڈیا پر اٹھارویں صدی کے ایک مراٹھا راجہ شیواجی اور ہندو قوم پرست آنجہانی رہنما بال ٹھاکرے کی ایک جعلی ہتک آمیز تصویر شائع ہونے کے بعد ہنگامہ ہو گیا اور پونے شہر میں ایک انتہا پسند ہندو تنظیم کے کارکنوں نے ایک مسلم نوجوان کو صرف مسلم ہونے کے سبب موت کے گھاٹ اتار دیا ۔پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیغامات کس نے اور کس مقام پر شا‏ئع کیے تھے۔

سوشل میڈیا پر مودی حکومت یا وزیر اعظم مودی کی تنقید کے پیغامات پر ان کے حامی یلغار کر دیتے ہیں ۔ اکثر ان جوابی حملوں میں غیر مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹر نیشل ، گرین پیس اور ایکشن ایڈ سمیت ایسی تمام غیر سرکاری تنظیموں پر نظر رکھی جارہی ہے جو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق حقوق انسانی کے سوالات اٹھا رہی ہیں یا جو ماحولیات وغیرہ کے تناظر میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کر رہی ہیں۔ خفیہ ایجنیسیوں نے انھیں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

مودی کی نئی حکومت اس بات کا کئی بار اعادہ کر چکی ہے کہ اظہار کی آزادی اور اختلافات کا اظہار جمہوریت کی بنیاد ہیں لیکن یہ حالیہ واقعات جمہوریت کے لیے کوئی اچھے شگون نہیں ہیں۔

مودی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ابھی صرف ایک مہینہ ہوا ہے اور اس عرصے میں حکومت نے ہر شعبے میں تیزی سے موثر قدم اٹھائے ہیں جن کی ستائش کی جا رہی ہے۔ لیکن اتنی ہی تیز رفتاری سے بی جے پی سے منسلک آر ایس ایس اور دوسری ہندو نواز تنظیمیں بھی متحرک ہو چکی ہیں۔ میڈیا پر بھی اکثر نکتہ چینیاں کی جاتی رہی ہیں۔

نریندر مودی ترقی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں اور واضح طور پر ان کی حکومت کا یہی ایجنڈہ بھی ہے۔ لیکن ترقی کے عمل میں اگر جمہوریت کے بنیادی پہلوؤوں کو ذک پہنچے گی تو وزیر اعظم کے طور پر ان کی اپنی مقبولیت کو تو چوٹ پہنچے گی ہی ترقی کا ان کا ایجنڈہ بھی بری طرح مجروح ہو گا۔

بھارت اس اہم مرحلے پر کسی طرح کے غیر جمہوری نظریاتی تصور کا متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وزیر اعظم مودی کی حکومت۔

اسی بارے میں