خصوصی مندوب جیمز ڈوبنز نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مئی 2013 میں ریٹائرمنٹ ختم کر کے سابق سفارتکار جیمز ڈوبنز نے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی مندوبکا عہدہ اس وقت سنبھالا جب رچرڈ ہالبروک وفات پا گئے تھے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب جیمز ڈوبنز اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ اور افغانستان کے تعلقات قدرے نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ 2014 کے آخر تک امریکی فوج نے افغانستان سے انخلا کرنا ہے جبکہ باقی رہ جانے والی افواج کے بارے میں اب تک دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے نہیں ہو سکا ہے۔

افغانستان میں دونوں صدارتی امیدوار کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

جان کیری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیمز ڈوبنز کے افغانستان میں گہرے تعلقات ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کی جگہ ان کے نائب ڈین فیلڈمین لیں گے۔

جیمز ڈوبنز اس عہدے پر تقریباً ایک سال تک فائز رہے۔ اس سے پہلے ان کے عہدے پر معروف سفارتکار رچرڈ ہولبروک تھے۔

افغانستان میں دونوں امیدواروں نے ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں جس کے بعد انتخابات کے صوبائی نتائج ووٹوں کی جانچ کے لیے ایک ہفتے تک کے لیے موخر کر دیے گئے ہیں۔

افغانستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ جمہوری انتقالِ اقتدار ہو رہا ہے۔ صدر حامد کرزئی 13 سال تک برسرِ اقتدار رہے ہیں۔

جان کیری نے کہا کہ جیمز ڈوبنز کا صدر کرزئی کے ساتھ رشتہ انتہائی اہم رہا اور خاص طور پر مشکل اوقات میں بہت فائدہ مند رہا۔

مئی 2013 میں ریٹائرمنٹ ختم کر کے سابق سفارتکار جیمز ڈوبنز نے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی مندوب کا عہدہ اس وقت سنبھالا جب رچرڈ ہولبروک وفات پا گئے تھے۔

جیمز ڈوبنز نے اس دور میں افغانستان کے ساتھ 2014 کے بعد ملک میں امریکی افواج کی موجودگی کے سلسلے میں معاہدہ تشکیل دیا تھا۔

حامد کرزئی نے معاہدہ طے کرنے سے آخری موقعے پر انکار کر دیا تھا۔ تاہم دونوں اہم صدارتی امیدواروں سے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔

اسی بارے میں