کشمیر میں فوجی فائرنگ رینج کے خلاف مزاحمت

Image caption سمرن مشتاق کی موت کے بعد توسہ میدان کے گردونواح کے سکولوں میں بھی بچوں نے مزاحمت شروع کر دی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بڈگام ضلعے میں ہزاروں ایکڑ زمین پر پھیلی ایک فوجی تربیت گاہ کے خلاف مقامی افراد نے احتجاجی تحریک شروع کی ہے۔

فوج کی اس فائرنگ رینج کی زد میں درجنوں آبادیاں ہیں جہاں گذشتہ برسوں کے دوران متعدد افراد بارود پھٹنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک تازہ واقعے میں ایک سات سالہ لڑکی ہلاک ہوگئی جب کہ اس کا بھائی زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوگیا۔

ہمالیہ کے دامن میں واقع توسہ میدان ہزاروں ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ کبھی یہ سبزہ زار کشمیر کی اہم چراگاہ ہوا کرتا تھا لیکن اب بھارت کی فوجی مشقوں کا خطرناک مرکز ہے۔

ہر سال گرما میں مسلسل تربیتی گولہ باری کی وجہ سے یہاں کے لوگ دن رات ہراساں رہتے ہیں۔ فوجی تربیت کی وجہ سے یہاں کے کھیتوں میں بکھرے بارودی شیل اکثر بچوں اور بڑوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جب منظور احمد کی پوتی سمرن مشتاق کو اپنے گھر کے صحن سے پیتل کا بنا ایک شیل ملا تو وہ اسے گھر کے برآمدے پر لائی اور اپنے بھائی کے ساتھ کھیلنے لگی۔

شیل ہاتھ سے سیمنٹ کے برآمدے پر گرا تو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ منظور کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی پوتی کی لاش کے ٹکڑے دور دور تک بکھرے دیکھے۔

بھارت اور چین کے درمیان1962 کی جنگ کے بعد بڈگام ضلع کے توسہ میدان، درنگ اور شولی پورہ علاقوں پر پھیلی ایک وسیع چراگاہ کو بھارتی فوج نے مستقل جنگی تربیت گاہ میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہاں کی حکومت نے یہ وسیع رقبہ زمین فوج کو 50 سالہ لیز پر دے دیا تھا۔ لیز کا یہ معاہدہ اس سال اپریل میں ختم ہوگیا تو مقامی لوگوں نے یہاں سے فوجی انخلا کی تحریک شروع کر دی۔

سمرن مشتاق کی موت کے بعد توسہ میدان کے گردونواح کے سکولوں میں بھی بچوں نے مزاحمت شروع کر دی۔

توسہ میدان کے قریب سے ایک آبشار کئی بستیوں سے ہوکر گزرتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب جنگی مشق کی جگہ گولہ بارود بکھر جاتا ہے اور ایسے شیل جو پھٹنے سے رہ گئے ہوں اسی آبشار کے ساتھ بہہ کر بستیوں میں پہنچتے ہیں۔ بچے ان شیلوں کے ساتھ کھیلنے لگتے ہیں اور اس طرح ہلاک ہو جاتے ہیں۔

توسہ میدان بچاؤ محاذ کے ترجمان ڈاکٹر معراج الدین کہتے ہیں: ’لڑکی کی موت ہوگئی تو فوج نے فائرنگ بند کر دی تھی۔ لیکن اس فائرنگ رینج میں جنگی سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ مشقیں دوبارہ شروع ہوں گی۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ لیز کو توسیع نہیں ملے گی لیکن کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ آخر فیصلہ کیا ہوا۔‘

Image caption ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں واقع توسہ میدان ہزاروں ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے

علیحدگی پسندوں نے بھی اس مطالبہ کی حمایت میں قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ میرواعظ عمرفاروق اور سید علی گیلانی نے بھی توسہ میدان کے لوگوں کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

50 سال سے توپوں اور بارودی گولوں کی سماعت شکن گھن گرج میں زندگی گزارنے والے ان باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اکثر رات کو جاگ جاتے ہیں۔

منظور احمد کہتے ہیں: ’جب یہ لوگ توپوں سے فائرنگ کرتے ہیں تو ہاتھ سے چائے کی پیالی گر جاتی ہے۔ یہ سب میرے بچپن سے ہو رہا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد بھی متنازع بنی ہوئی ہے۔‘

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد 50 سالہ عرصے میں ایسےہی حادثات کا شکار ہوگئے، تاہم حکومت نے صرف 63 اموات کا اندراج کیا ہے۔

سمرن کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ 50 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ بارود پھٹنے سے ہونے والی کوئی ہلاکت میڈیا اور سیاست کو بڑا موضوع بنی ہے۔

اسی بارے میں