اینگلا مرکل چین کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2005 کے بعد سے اینجلا مرکل کا چین کا یہ پانچواں دورہ ہے

جرمن چانسلر اینگلا مرکل چین کا تین روزہ دورہ شروع کرنے والی ہیں جس دوران دوطرفہ تجارت کے مسائل پر ترجیح بنیادوں پر بات چیت ہونے کی توقع ہے۔

چین اور جرمنی دو اہم تجارتی ملک ہیں اور اینگلا مرکل کے ساتھ جرمنی کے تاجروں کا ایک وفد بھی چین کے دورے پر جا رہا ہے۔

جرمن چانسلر اپنے دورے کے پہلے حصے میں اتوار کو جنوبی مغربی صوبے سنچوان کے شہر چنگڈو پہنچ رہی ہیں جہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ جرمن کمپنیاں تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

سنہ دو ہزار پانچ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اینگلا مرکل کا چین کا یہ پانچواں دورہ ہے۔

جرمن چانسلر اپنے دورے کے دوران چین کے وزیر اعظم لی کی یانگ اور صدر ژی جن پنگ سے بھی ملاقات کریں گی۔

جرمنی کے شہر برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ چین کی منڈیاں جرمنی کی تجارت کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور چین اپنے پھلتے پھولتے متوسط طبقے کی گاڑیوں اور مشینری کی مانگ پوری کرنے کے لیے جرمنی کی طرف دیکھ رہا ہے۔

سٹیفن ایونز کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں اینگلا مرکل چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس مرتبہ بھی وہ اس ضمن میں کوئی تبصرہ کریں گی۔

بیجنگ میں مشترکہ بزنس کونسل میں جرمن وفد متوقع طور پر بیرونی کمپنیوں کو چینی منڈیوں تک مساوی رسائی دینے اور بین الاقوامی پارٹی رائٹس کی پاسداری کرنے پر بات کریں گے۔

جرمنی کے خفیہ ادارے کے سربراہ ہانس گورج ماسن نے مقامی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی جرمن کمپنیوں کو چین کی طرف سے کی جانے والی مبینہ صنعتی جاسوس کی وجہ سے خطرہ ہے۔

ماسن نے اس مضمون میں مزید لکھا ہے کہ جرمن کو ایک بہت ہی طاقتور حریف کا سامنا ہے اور چین کی ٹیکنیکل انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک لاکھ سے زیادہ اہلکار ہیں۔

چین جرمنی کی مصنوعات کی یورپ کے باہر امریکہ کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔

جرمنی نے گزشتہ سال 67 ارب یورو کی مصنوعات چین کو درآمد کی تھیں جبکہ چین سے اس کی برآمدات کا حجم 73 ارب یور ہے۔

اسی بارے میں