’شرعی عدالتوں اور ان کے فتووں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فتووں کو آئینی اور قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ شرعی عدالتو ں کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے اور وہ ایسے فتوے جاری کرنے کی مجاز نہیں ہیں جن سے فرد کے آئینی حقوق کی پامالی ہوتی ہو۔

دارلقضا اور اور دارالافتا جیسے اداروں کی متوازی شرعی عدالتوں پر پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے بھارتی عدالت عظمیٰ نے یہ واضح طور پر کہا کہ فتووں کو معصوم لوگوں کو سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا: ’اسلام سمیت کوئی بھی مذہب ایسے ضابطوں سے معصوم افراد کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا جنھیں قانونی طورپر منظوری حاصل نہ ہو۔‘

ایک وکیل نے مفاد عامہ کی ایک عذر داری میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ شرعی عدالتیں عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے۔

‏عدالت نے کہا کہ عوام ان اداروں کے فیصلوں اور فتووں کو ماننے کی پابند نہیں ہے اور یہ ادارے اور افتا صرف اسی صورت میں فتوے دینے کے مجاز ہونگے جب ان سے متاثرہ افراد رجوع کریں گے۔

عدالت عظمیٰ کی ایک بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اتر پریش کی ایک خاتون عمرانہ کے کیس کا حوالہ دیا جس کا اس کے سسر نے ریپ کیا تھا۔ایک مفتی نے ریپ کے بعد عمرانہ کو اپنے شوہر سے طلاق لینے اوراپنے سسر یا خسر سے نکاح پڑھانے کا فتویٰ دیا تھا۔

Image caption دارالعلوم دیو بند، اور ندوہ جیسے مذہبی اداروں کی طرف سے ہر روز طرح طرح کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس کیس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ متاثرہ فرد سے بات کیے بغیر یہ فتوی ٰدیا گیا اور ایک معصوم شخص کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ’شرعی عدالتیں اور دارا لقضا کو آئینی منظوری حاصل نہیں ہے اور وہ ایسے کوئی فیصلے اور فتوے نہیں دے سکتے جن سے فرد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ اس طرح کے فیصلے اور فتوے کالعدم اور غیر قانونی ہونگے۔‘

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت اہم ہے کیونکہ ملک کے متعدد اضلاع میں جہاں مسلمانوں کی خا صی آبادی ہے، نام نہاد شرعی عدالتیں قائم کی گئی ہیں اور وہ کسی قانونی حیثیت کے بغیر مختلف معاملات میں فیصلے سنا رہی تھیں۔

دارالعلوم دیو بند، اور ندوہ جیسے مذہبی اداروں کی طرف سے ہر روز طرح طرح کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ بھولے بھالے مسلمان اکثر ان فتووں کو اسلامی فیصلہ سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں۔اکثر ان فتووں سے دوسرے مسلکوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے غیر ضروری غیر ذمےدارانہ اور فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے والے خود ساختہ فتووں پر قدغن لگے گی۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارتی آئین میں فرد کو دیے گئے بنیادی حقوق کی حیثیت قطعی ہے اور انفرادی حقوق سے متصادم ہونے والا ہر فیصلہ غیر قانونی ہوگا ۔

اسی بارے میں