غربت کی لکیر جسے کروڑوں روزانہ پار کر جاتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں اب جو شخص 32 روپے سے زیادہ کماتا ہے وہ سرکاری طور پر خط افلاس سے اوپر مانا جاتا ہے

غربت کی لائن آف کنٹرول

ملک میں کچھ اور بدلے نہ بدلے، غریبوں کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔ پہلے جو غریب تھے انھیں بتایا گیا کہ آپ غربت کے دائرے سے باہر نکل آئے ہیں بس آپ اپنے معمولات زندگی میں اتنے مصروف رہے کہ آپ کو پتہ نہیں چلا۔

اب حکومت کی انتھک کوششوں کی وجہ سے بہت سے لوگ جو خوش حالوں کے زمرے میں آگئے تھے، انھیں بتایا جارہا ہے کہ معاف کیجیے گا، آپ دراصل غریب ہی ہیں، حساب لگانے میں ذرا چوک ہوگئی تھی۔

حکومت کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی کا اب کہنا ہے کہ ملک کی سوا ارب آبادی میں سے تقریباً 36 کروڑ لوگ غریب ہیں۔ پہلے یہ تعداد تقریباً 27 کروڑ تھی۔ دراصل پہلے دیہی علاقوں میں روزانہ 27 روپے فی کس سے کم میں گزر بسر کرنے والوں کو غریب مانا جاتا تھا، اب یہ رقم پانچ روپے بڑھاکر 32 روپے کر دی گئی ہے۔

اس سے تقریباً ساڑھے نو کروڑ نئے غریب بھی عجیب کشمکش کا شکار ہوں گے، نہ انھیں کبھی یہ خبر ہوئی ہوگی کہ وہ امیر ہوگئے اور نہ یہ کہ وہ کب دوبارہ غریب ہوگئے۔

غربت کی یہ ایک ایسی حیرت انگیز لائن آف کنٹرول ہے جس کے دونوں طرف رہنے والے کروڑوں لوگ شاید روزانہ نہ چاہتے ہوئے بھی دن میں کئی بار اسے پار کرتے ہوں گے۔

صاف شفاف سیاست

تصویر کے کاپی رائٹ PTI and AFP
Image caption ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسری پارٹیاں نہیں کرتیں

بھارت کے سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کے بیٹے ایچ ڈی کماراسوامی نے ایمانداری کا نیا معیار قائم کیا ہے۔

وہ جنوبی ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں اور ایک آڈیو ٹیپ میں مبینہ طور پر ایک سیاسی رہنما سے ریاست کی قانون ساز کونسل کی ایک سیٹ کا سودا کرتے سنائی دے دیتے ہیں۔ بات 40 کروڑ روپے سے شروع ہوتی ہے اور 25 کروڑ پر اٹک جاتی ہے۔

کماراسوامی نے اس بات سے انکار نہیں کیا ہے کہ ٹیپ میں آواز ان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسری جماعتیں نہیں کرتیں، اور ان کے مطابق ’بات کا بلا وجہ بتنگڑ بنا دیا گیا ہے، جیسے انھوں نے کوئی گناہ کیا ہو۔‘

مسٹر کماراسوامی کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انھوں نے صاف شفاف سیاست کی غیر معمولی مثال پیش کی ہے۔

ہندوستانی کونڈم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیل میں سب سے زیادہ مقبول وہ ورلڈ کپ سپیشل ثابت ہوا ہے جسے برازیل کے قومی ہرے اور پیلے رنگوں میں رنگا گیا ہے

برازیل میں میدانوں پر پاکستانی فٹبال اور میدان سے باہر ہندوستانی کونڈم اپنا جوہر دکھا رہے ہیں، اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ دنیا میں فٹبال کے اس سب سے بڑے جشن سے برصغیر کا تعلق بس آدھی رات کو ٹی وی پر میچ دیکھنے تک ہی محدود ہے۔

برازیل میں فٹبال جنون کی حد تک مقبول ہے۔ یہ تو دنیا جانتی ہے لیکن ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اور عشق کے امتحانوں میں ہندوستانی کونڈم سب سے زیادہ مقبول ثابت ہو رہے ہیں۔ برازیل ہر سال تقریباً ایک ارب کونڈم درآمد کرتا ہے اور ان میں سےتقریباً ایک تہائی ہندوستان کی سرکاری کمپنی ایچ ایل ایل لائف کیئر سپلائی کرتی ہے۔

اخبارات کے مطابق گذشتہ برس کمپنی نے برازیل کو 34 کروڑ کونڈم سپلائی کیے تھے۔ اس سال یہ تعداد چھ مہینے میں ہی 40 کروڑ کی تعداد پار کر چکی ہے اور تخمینوں کے مطابق وہاں آج کل روزانہ 20 لاکھ کونڈم فروخت ہو رہے ہیں۔

اور سب سے زیادہ مقبول وہ ورلڈ کپ سپیشل کونڈم ثابت ہوا ہے جسے برازیل کے قومی رنگوں میں رنگا گیا ہے، ہرا اور پیلا۔

حب الوطنی بھی، جوش بھی اور ہوش بھی۔ لیکن ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ اگر برصغیر کے کسی ملک کے قومی رنگوں کو کونڈم کے لیے استعمال کیا جاتا تو اس کونڈم، اسے بنانے والی کمپنی اور استعمال کرنے والوں کا کیا حشر ہوتا؟

اسی بارے میں