بلٹ ٹرین نہ سہی اس جیسی ہی سہی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں دو کروڑ 30 لاکھ افراد روزانہ ٹرینوں پر سفر کرتے ہیں

بھارت میں ُاودے پور کے ریلوے سٹیشن پر ڈھلتے سورج کی دھوپ میں لمبے ہوتے ہوئے سایوں میں گرمی اور حبس سے بوجھل فضا میں ایک کھنکتی آواز پلیٹ فارم پر انتظار کرتے مسافروں کو ٹرین کی آمد سے مطلع کرتی ہے۔

جیسے ہی میوار ایکسپریس رکتی ہے، پلیٹ فارم پر افراتفری اور بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔

تھکی تھکی رفتار سے چلنے والے ڈبے ابھی پوری طرح رک بھی نہیں پاتے کہ مرد مسافر کھڑکیوں سے اپنا سامان اندر پھینکنے کے بعد اندر گھسنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں، جب کہ رنگ برنگی ساڑھیوں میں ملبوس عورتیں اور ان کے ساتھ ننگے پیر بچے دروازوں کی طرف لپکتے ہیں۔

چند منٹ میں ٹرین کے ڈبے پسینے سے شرابور مسافروں سے کھچا کھچ بھر جاتے ہیں۔ 459 میل کا سفر 13 گھنٹوں میں طے کر کے دہلی جانے والی اس ٹرین کے ڈبوں میں چلنے کی جگہ بھی نہیں رہتی۔

مسافروں کی بھیڑ کو پیچھے دھکیل کر اپنی جگہ بنا لینے کی صلاحیت رکھنے والوں کو تو سیٹ مل جاتی ہے باقی مسافر فرش پر اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ ٹرین کے بیت الخلا کے کھلے دروازے سے بدبو کے بھپکے ڈبے کی فضا کو متعفن کیے ہوئے ہیں۔

بھارت کے کونے کونے میں پھیلے ریلوے کے نظام کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور ہر روز 20 کروڑ 30 لاکھ افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

سالہاسال کی غفلت کی وجہ سے یہ نظام اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتیں ریلوے کے مسائل سے غفلت برتی رہیں جس کی وجہ سے ایشیا میں سب سے قدیم ریلوے کا یہ نظام تنزلی کا شکار ہو گیا ہے۔

معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوؤں پر کامیابی حاصل کرنے والی نریندر مودی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد توقع ہے کہ اب اہم شعبوں میں ترقی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں ٹرینوں کے حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے اور 40 افراد روزانہ ان حادثات کا شکار بنتے ہیں

سرکاری شعبے میں چلنے والی ریلوے کو دوبارہ پٹری پر ڈالنے کے لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

توانائی کے شعبے کے علاوہ مواصلات کا ڈھانچے معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ احمدآباد شہر میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے پروفیسر جی رگھورام کے مطابق اگر بھارت کو سات فیصد کی شرح نمو حاصل کرنی ہے تو پھر اس ریلوے کے نظام کو لازمی طور پر بہتر بنانا ہوگا۔

بھارت میں ترقی کی نمو بڑی حد تک سست پڑی ہے اور سنہ 14-2013 کے مالی سال میں یہ 4.7 فیصد رہی۔ بھارت میں مسلسل دو برس سے شرح نمو پانچ فیصد سے کم رہی ہے۔

بی جے پی کی نئی حکومت نے آتے ہی ریل کے کرایوں میں اضافہ کیا ہے۔ مسافروں کے کرایوں میں 14 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مال کے کرائے چھ فیصد بڑھائے گئے ہیں۔

حالیہ کرایوں میں اضافوں کے باوجود بھارت میں اب بھی مسافر کرائے باقی دنیا کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ مال کے کرائے البتہ زیادہ ہیں اور ان کی مدد سے مسافروں کے کرایوں کو کم رکھا جاتا ہے۔

میوار ایکسپریس کے رات بھر کے سفر کا ٹکٹ صرف دو سو روپے میں خریدا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے انتہائی غریب طبقے کے لوگ بھی اس میں سفر کر سکتے ہیں۔

سستے کرایوں کی وجہ سے ریلوے کو ہر سال ساڑھے چار ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مال کے مہنگے کرایوں کی وجہ سے مل کی نقل و حمل زیادہ تر سڑکوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ریلوے کے سفر کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں گے۔ بھارت بھر میں اوسطاً ہر روز 40 افراد ریل کے حادثوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ چلتی ٹرینوں سے گر کر یا ٹرین کی پٹریاں پار کرتے ہوئے ہلاک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ ٹرینوں کے تصادم، ٹرینوں کے پٹریوں سے اتر جانے اور مسافر ڈبوں میں آگ لگنے کے واقعات میں ہلاک ہوتےہیں۔

بی جے پی کے وعدوں میں بھارت کے بڑے شہروں کے درمیان تیز رفتار ’بلٹ ٹرین‘ چلانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔

گزشتہ ہفتے دہلی اور آگرے کے درمیان چلنے والی ایک ٹرین نے 160 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کیا جو ایک نیا قومی ریکارڈ ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے اسے بلٹ ٹرین جیسی قرار دیا ہے۔ یہ الگ بات کہ جاپان میں 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے بلٹ ٹرین سے اس کی رفتار آدھی ہے ۔

نریندر مودی کے والد ایک پلیٹ فارم پر چائے فروخت کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان اسی رفتار کی ٹرین سے چلانا چاہتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption بی جے پی نے تیز رفتار بلٹ ٹرین چلانے کا وعدہ کیا ہے

ان کا کہنا ہے کہ بلٹ ٹرین سے آدھی رفتار سے چلنے والی ٹرینیں دہلی اور ممبئی اور پنجاب اور کلکتہ کے درمیان 2018 تک چلنا شروع ہو جائیں گی۔

انڈین ریلوے میں 13 لاکھ ملازمین ہیں جو افرادی قوت کے اعتبار سے سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار مہیا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ڈائریکٹر راکیش موہن کا کہنا ہے کہ ریلوے کو کارپوریٹ بنانا ہو گا اور اس کی انتظامیہ اور آپریشنوں کو حکومت سے علیحدہ کرنا ہوگا۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ کے رگھورام اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ریلوے کے آئندہ بجٹ میں اس بارے میں کچھ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ریلوے کے بورڈ میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔

میوار ایکسپریس رات کے اندھیرے میں شمالی بھارت کے دیہاتی علاقے سے دہلی کی طرف رواں دواں ہے۔

24 سالہ مارکیٹنگ مینیجر رشابا سلطانیہ ٹرین کے ایئر کنڈیشن ڈبے میں بیٹھے اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر پر مصروف ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 30 ڈالر کا ٹرین کا ٹکٹ حاصل کرنا کس قدر دشوار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سیٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہے، آبادی بڑھ رہی ہے اس لیے زیادہ ٹرینیں چلانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں