نوجوانوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتا بنگلور

Image caption بھارت کے ہائی ٹیک شہر بنگلور میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے

ایگنس میری اپنے جوان بیٹے نوین کی موت سے سکتے کے عالم میں ہیں۔ وہ اکثر نوین کی تصویر کو دیکھتی رہتی ہیں۔ روتے روتے آنکھیں سوکھ چکی ہیں۔ نوین نے گذشتہ دنوں زہر کھاکر خودکشی کر لی تھی۔

نوین کی بہن کیتھرن کہتی ہیں: ’سب کچھ ٹھیک تھا۔ وہ تو اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ پتہ نہیں اس نے ایسا کیوں کیا؟‘

نوین اُن دو ہزار سے زائد لوگوں میں شامل ہیں جو اعداد و شمار کے مطابق بنگلور میں ہر سال خود کشی کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ایک دن میں 11 لوگوں نے خود کشی کی تھی۔

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں واقع اس جدید شہر میں روزانہ چھ سے زیادہ افراد خود کشی کر رہے ہیں اور یہ تعداد بھارت كے کسی بھی بڑے شہر سے زیادہ ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اس کی بڑی وجہ مقابلے کی فضا کے علاوہ باہر سے آ کر وہاں کام کرنے والے لوگوں کے لیے کسی طرح کی ذہنی اور سماجی مدد کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔

نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر سی آر چندر شیکھر کہتے ہیں: ’بنگلور میں مقابلہ بہت ہے۔ ہر کوئی تیزی سے پیسہ کمانا چاہتا ہے۔ ناکامی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہاں ملک کے ہر حصے سے لاکھوں لوگ کام کرنے آتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ جنوبی بھارتی ریاست کرناٹک کا دارالحکومت اور معروف شہر بنگلور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا مرکز ہے۔ یہ شہر ترقی پذیر بھارت کی علامت ہے اور یہاں پورے ملک سے لاکھوں لوگ کام کرنے آتے ہیں۔

رخسانہ حسن خود کشی کا میلان رکھنے والوں اور خودکشی میں ناکام افراد کے لیے امدادی مرکز چلاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’تیزی سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں زندگی بہت پیچیدہ ہو گئی ہے۔ کسی میں صبر نہیں ہے۔ عام طور پر قرض میں ڈوب جانا، رشتوں میں تلخی آ جانا اور بیماریاں خود کشی کے بڑے اسباب میں شامل ہیں۔‘

ان کے مطابق زبردست مقابلہ اور کامیاب ہونے کا جنون ذہنی تناؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

نمہانس ہسپتال میں نفسیات کے شعبے کے ڈاکٹر سینتھل کمار ریڈی کا کہنا ہے کہ دوسری ریاستوں سے یہاں آنے والوں کو اس طرح کی جذباتی اور ذہنی حمایت نہیں مل پاتی جس کی اس قسم کے تناؤ کے وقت ضرورت ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’یہاں خود کشی کرنے والوں میں زیادہ تر افراد ڈپریشن یا ذہنی بیماری کے شکار ہوتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بر وقت مدد حاصل ہونے سے وہ خود کشی سے باز رہ سکتے ہیں۔‘

Image caption گذشتہ چند برسوں کے دوران بنگلور میں خودکشی میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے

بنگلور کے نوجوانوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے نيم ہانس ہسپتال نے خود کشی کا ارادہ اور میلان رکھنے والوں کے بارے میں جاننے اور انھیں خود کشی سے باز رکھنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔

’گیٹ کیپر‘ یعنی دربان نامی اس تربیتی پروگرام میں اساتذہ، طالب علموں، سرکاری تنظیموں اور دیگر لوگوں کو تربیت فراہم کی جار رہی ہے۔

ڈاکٹر ریڈی کے مطابق اس کے متعلق بنیادی شعور پیدا کرنے اور ڈپریشن کے متاثرین افراد کو ذرا سا سہارا دینے سے ہی ہزاروں لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں