بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کا تنازع حل

Image caption خلیج بنگال کے متنازع 25،000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں سے 19،500 کلومیٹر کا علاقے بنگلہ دیش کو دیا گیا ہے

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تین دہائیوں سے جاری متنازع سمندری سرحد کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ٹرائبیونل نے متنازع علاقے کا تقریباً 80 فیصد حصہ بنگلہ دیش کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان خلیجِ بنگال کے متنازع 25 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں سے 19،500 کلومیٹر کا علاقے بنگلہ دیش کو دیا گیا ہے جبکہ بھارت کے حصے میں تقریبا چھ ہزار کلومیٹر علاقہ آيا ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ممالک نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

بھارت کے ساتھ جاری سمندری حدود کے تنازعے کو بنگلہ دیش نے سنہ 2009 میں سمندری امور کے متعلق اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ٹرائبیونل میں اٹھایا تھا۔

اس تنازعے کے حل سے بنگلہ دیش کو خلیج بنگال میں پٹرول اور گیس کی تلاش کا موقع ملے گا۔

ماہرین کے مطابق خلیج بنگال میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ابوالحسن محمود علی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ ’یہ دوستی کی جیت ہے اور بنگلہ دیش بھارت دونوں ممالک کی عوام کے لیے جیت والی کیفیت ہے۔‘

محمود علی نے کہا کہ ’ہم اس معاملے کے پرامن اور قانونی حل کے لیے بھارت کی سنجیدگی اور اقوام متحدہ کے فیصلے کو قبول کرنے کی تعریف کرتے ہیں۔‘

بھارت نے بھی اس فیصلے کا یہ کہتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بحری سرحد کے حل سے ایک دیرینہ تنازع اپنے اختتام کو پہنچا ہے اور اس سے دونوں ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بہتر سمجھ اور خیر سگالی کے جذبے کو فروغ ملے گا۔‘

اسی بارے میں