کشمیر سے اقوام متحدہ بے دخل؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اقوام متحدہ کے کشمیر دفتر کے بند ہونے سے اس کا سب سے زیادہ اثر علیحدگی پسندوں پر پڑے گا کیونکہ وہ کشمیر کے ہر چھوٹے بڑے معاملے پر اقوام متحدہ کے مشن کو عرضداشت دیا کرتے تھے

کیا بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اقوام متحدہ کو کشمیر سے بے دخل کر رہی ہے؟ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ نئی سرکار نے یہ عمل شروع کر دیا ہے۔

بھارت کی حکومت نے دہلی میں واقع کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کے فوجی مشاہدین کے مشن سے کہا ہے کہ وہ اس سرکاری بنگلے کو خالی کر دے جس میں اس کا دفتر واقع ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مشاہدین کا مشن اپنی معنویت اور اپنا جواز کھو چکا ہے۔ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ حکومت نے اقوام متحدہ سے وہ سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے لیے کہا ہے جو حکومت نے انھیں مفت فراہم کر رکھا تھا۔‘

مبصرین کا خیال ہے کہ کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کے مشاہدین کا کردار پہلے ہی بہت حد تک محدود ہو چکا تھا۔ وویکا نند فاؤنڈیشن کے سوشانت سرین کے خیال میں مشن سے دفتر خالی کرانے کامعاملہ بہت اہم ہے۔ ’یہ فیصلہ غلطی سے نہیں آیا ہے۔ یہ نئی سرکار کا فیصلہ ہے جو ایک سخت پیغام دینا چاہتی ہے کہ کشمیر کا سوال کوئی بین الاقوامی تنازع نہیں ہے۔‘

اقوام متحدہ کے فوجی مشاہدین کا مشن 1949 سے بھارت میں موجود ہے۔ اس کا دفتر دہلی کے علاوہ جموں و کشمیر میں بھی ہے۔ کشمیر امور کے تجزیہ کار انل آنند کہتے ہیں کہ دہلی کے بعد کشمیر کا دفتر بھی خالی کرایا جا سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ’اس کا سب سے زیادہ اثر علیحدگی پسندوں پر پڑے گا کیونکہ وہ کشمیر کے ہر چھوٹے بڑے معاملے پر اقوام متحدہ کے مشن کو عرضداشت دیا کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کا صدر دفتر ویانا میں

علیحدگی پسندوں کی طرف سے ابھی باضابطہ کوئی رد عمل سامنے نہیں آيا ہے لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی تجزیہ کار اور سول سوسائٹی کی ایک سرکردہ رکن پروفیسر حمیدہ نعیم نے دہلی میں اقوام متحدہ سے سرکاری عمارت خالی کرانے کو ایک خطرناک قدم قرار دیا ہے۔

ان کے خیال میں بھارت کشمیر کے تنازعے کی نوعیت بدلنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اقوام متحدہ کے اس مشن کا یہاں ہونا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ کشمیرایک بین لاقوامی تنازع ہے۔ اگر یہ مشن بند ہو گیا تو یہ تنازع اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔ پاکستان اور کشمیر کی مقامی قیادت کو اس کی سخت محالفت کرنی چاہیے۔‘

اس دوران اقوام متحدہ کے اہلکار خاموشی سے دہلی کے سرکاری بنگلے میں اپنا سامان سمیٹ رہے ہیں۔ ابھی یہ نہیں معلوم کہ وہ کب تک یہ بنگلہ خالی کریں گے۔

کیا اقوام متحدہ اپنا یہ دنیا کا سب سے پرانا فوجی مشاہدین کا مشن ہمیشہ کے لیے بند کر دے گا؟ اقوام متحدہ نے ابھی تک اس کے بارے میں ایک پر اصرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں