حافظ سعید سے بھی مدد لینے کے لیے تیار ہیں: کشمیری رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید علی شاہ گیلانی کشمیری علیحدگی کے حامی ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم آل پارٹی حریت كانفرنس (گیلانی گروپ) کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے وہ ہر کسی سے مدد لینے کے لیے تیار ہیں، خواہ اس کا نام حافظ سعید ہی کیوں نہ ہو۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت کے دوران انھوں نے کہا: ’ہم ہر اس شخص سے مدد کے لیے تیار ہیں جو بھی جموں کشمیر کے مسئلے کے حل کی بات کرے گا، وہاں کے عوام کے حقوق کی بات کرے گا اور اس کے بارے میں یہاں کے عوام کو یقین ہے کہ یہ ہمارے حقوق کی بات کر رہا ہے، خواہ اس کا نام کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ حافظ سعید ہی کیوں نہ ہو۔‘

کشمیر کی جنگِ آزادی میں حریت کانفرنس کو حافظ سعید سے کس طرح کی مدد مل سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’یہ تو دوسرا مسئلہ ہے کہ وہ کس طرح کی مدد کریں گے، یا پھر وہ مدد کرنے لائق ہیں بھی یا نہیں، لیکن جو کوئی بھی کشمیر کے مسئلے کی حل کی بات کرے گا، کشمیر کے عوام کو رعایت دینے کی بات کرے گا، کشمیر کے عوام اسے اپنے حق کی بات کرنے والا سمجھتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارت جماعت الدعوۃ کو بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث گردانتا ہے اور سنہ 2008 میں ممبئی پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے، اور حافظ سعید بھارت کو مطلوب ترین افراد میں شامل ہیں۔

حال میں پاکستان کے سفر سے واپس آنے والے بھارتی صحافی وید پرتاپ ویدک اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سے ملاقات میں ویدک نے کشمیر کی آزادی کی بات کر کے بھارت میں سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا تھا۔

ویدک نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کی آزادی کی بات کر رہے تھے، بھارت سے کشمیر کی علیحدگی کی بات نہیں کر رہے تھے۔

سید علی شاہ گیلانی نے ویدک کی تجویز پر کہا: ’علیحدگی کے بغیر کشمیر کی آزادی کی بات ممکن ہی نہیں ہے۔‘

دریں اثنا کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیموں نے دہلی میں واقع کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے مشن کے دفتر کو خالی کرائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ دہلی میں اقوام متحدہ کے دفتر کو بند کرنے سے کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی آئے گی اور نہ ہی مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔

اسی بارے میں