بنگلور: سکول کے عملے کا چھ سالہ بچی کے ساتھ ’ریپ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے اس واقعہ کے خلاف کیس درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی

بھارت میں پولیس کے مطابق بنگلور میں ایک چھ سالہ بچی کے ساتھ نجی سکول کے عملے کے دو ارکان نے مبینہ طور پر ریپ کیا ہے۔

ریپ کا یہ مبینہ واقعہ دو جولائی کو پیش آیا۔ تاہم بچی کے والدین کو اس کا کچھ دنوں بعد اس وقت پتہ چلا جب بچی نے پیٹ میں درد کی شکایت کی اور اسے ہسپتال لے جایا گیا۔

دریں اثنا بنگلور میں سینکڑوں والدین نے اس نجی سکول کی عمارت کے باہر اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور سکول کا گیٹ توڑ دیا۔

پولیس نے اس واقعے کے خلاف کیس درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

نئی دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ ریپ کا تازہ واقعہ ملک میں پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ ہے۔

پہلی کلاس میں پڑھنے والی چھ سالہ بچی کے ساتھ سکول کے جم انسٹرکٹر اور سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ریپ کیا ہے۔

سکول کے چیئرمین رستم کیری والا نے جمعرات کو والدین سے ملاقات کے بعد اس معاملے پر معافی طلب کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

خیال رہے کہ بھارت میں 2012 میں جنوبی دہلی میں ایک لڑکی کی جنسی زیادتی کے بعد موت کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

متاثرہ طالبہ کا تعلق ریاست یوپی سے تھا جو نفسیات کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ تھیں اور گھر جانے کے لیے جس بس پر سوار ہوئیں اسی بس میں ان پر اور ان کے دوست پر حملہ کیا گيا تھا۔

اس کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ یہ قوانین ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔

اسی بارے میں