’کاش میری شادی نہ ہوتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جبری شادیوں کے مسئلے کو برطانیہ حکومت بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے

جبری اور کم عمری کی شادیاں بنگلہ دیش میں بہت پرانا سماجی مسئلہ ہے۔

گو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔

سلہٹ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں یہ سماجی برائی موجود ہے۔

برطانیہ میں رہنے والے زیادہ تر بنگالیوں کا تعلق سلہٹ سے ہے اور برطانیہ میں بھی بنگلہ دیشی برادری میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کے واقعات پیش آتے ہیں۔

سلہٹ بنگلہ دیش کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ خطہ چائے کی پیداوار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حالیہ برسوں میں تارکینِ وطن کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم کی وجہ سے اس علاقے میں خوشحالی آئی ہے۔ لیکن ملک کے اس نسبتاً معاشی طور پر خوشحال علاقے میں بھی جبری اور کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ پایا جاتا ہے، جس میں پڑھے لکھے طبقات بھی مبتلا ہیں۔

کم عمری کی شادیوں کی شکار ہونے والی لڑکیوں میں شومی بھی شامل ہیں جن کا اصل نام بوجوہ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

Image caption جبری شادیوں سےبہت سی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں

شومی نے بتایا کہ ان کو اس وقت شادی پر مجبور کیا گیا جب وہ 15 سال کی تھیں اور دسویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی تھیں لیکن خاندان کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے انھیں مجبوراً ہاں کرنا پڑی۔

شومی نے بتایا کہ شادی کے بعد جب انھیں پتہ چلا کہ وہ حمل سے ہیں تو ان کے رشتہ داروں نے انھیں زبردستی گھر تک محدود کر دیا گیا اور وہ تین ماہ تک گھر میں قید رہیں۔ انھوں نے کہا کہ زچگی کے چوتھے مہینے میں کہیں جا کر انھیں گھر سے نکلنے کی اجازت ملی۔

سلہٹ کے بہت سے لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں لہٰذا جبری شادیوں کے بہت سے واقعات میں بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری بھی ملوث ہیں۔

برطانیہ میں رہنے والے بہت سے بنگلہ دیشی والدین اپنے بچوں کو جبری اور کم عمری میں شادیاں کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پسند کے خلاف ہونے والی شادیوں کا انجام اکثر اچھا نہیں ہوتا۔

میں ایک ایسی لڑکی سے ملنے گیا جنھیں سیکنڈری سکول میں تعلیم کے دوران ایک بنگلہ دیشی نژاد برطانوی نوجوان سے شادی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

گو کہ ان کا خاندان پڑھا لکھا اور خوشحال تھا لیکن پھر بھی بہتر مستقبل کے لیے ان کی شادی برطانیہ میں کر دی گئی۔

وہ بھی اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھیں اس لیے ان کو شیلا کا فرضی نام دیا جا رہا ہے۔ جب وہ برطانیہ پہنچیں تو انھیں علم ہوا کہ ان کے شوہر کے ایک عورت سے ناجائز تعلقات ہیں جس سے اس کا ایک ناجائز بچہ بھی ہے۔

شیلا کے ہاں جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بنگلہ دیش واپس آ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھیں اور یہ سب کچھ تین چار دن میں ہو گیا اور انھیں سوچنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔

شیلا اب بہت بیمار ہیں اور برطانیہ اپنے بچے کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں۔

تاہم بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریوں میں جبری اور کم سنی کی شادیوں کے واقعات میں حالیہ برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سلہٹ میں برطانوی ہائی کمیشن بھی اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

سلہٹ میں خواتین وکلا کی ایک تنظیم کی علاقائی صدر سیدہ شیریں کا کہنا ہے ایسے واقعات کم تو ہوئے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔

شیرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور غیر سرکاری تنظیمیں اس بارے میں بہت چوکس اور سنجیدہ ہیں۔ لڑکیوں میں بھی آگہی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جہاں لڑکیوں نے اپنے دوستوں کو مطلع کر دیا اور انھوں نے شادیاں رکوا دیں۔ لیکن غریب اور دیہاتوں میں بسنے والے طبقات میں اب بھی یہ سماجی برائی موجود ہے اور ابھی ایسے واقعات تسلی بخش حد تک کم نہیں ہوئے۔

سلہٹ شہر میں شادیوں کا اندراج کرنے والے میاں الدین احمد کا کہنا ہے اب برطانیہ سے بنگلہ دیشی اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے بنگلہ دیش نہیں آ رہے جس طرح ماضی میں آتے تھے۔

لیکن وہ لڑکیاں جو کم عمری میں زبردستی کی شادی کا شکار ہوئی ہیں ان کی ساری زندگی اذیت بن جاتی ہے۔ شومی اور شیلا دونوں کو ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا۔ شادی کے دس سال بعد بھی شیلا سوچتی ہیں کہ اگر ان کی کم عمری میں زبردستی شادی نہ کی جاتی تو آج ان ی زندگی کتنی مختلف ہوتی۔

شیلا کہتی ہیں: ’اگر مجھ میں اتنی جرات ہوتی کہ میں نہ کر سکتی۔ میں ہر روز اور ہر وقت یہ سوچتی ہوں کہ کاش میں یہ کہہ سکتی کہ میری شادی کی عمر نہیں ہے اور میرے گھر والوں نے عقلمندی سے کام لیا ہوتا تو میری پڑھائی مکمل ہو گئی ہوتی اور آج میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی۔ میری زندگی تباہ ہو گئی اور اب میں اور میرا بچہ دونوں اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں