ہندو ارکان کا روزہ دار کو زبردستی کھانا کھلانے پر ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس پورے واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے: رکنِ پارلیمان شیو سینا

بھارت میں ہندو اراکینِ پارلیمان کی طرف سے ایک روزہ دار مسلمان کو زبردستی کھانا کھلانے کی خبروں پر ملک کی پارلیمان میں زبردست ہنگامہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دائیں بازو کی جماعت شیوسینا سے تعلق رکھنے والے اراکینِ پارلیمان ایک سرکاری کینٹین میں اپنی مرضی کا کھانا نہ ملنے پر برہم تھے۔

شیو سینا بھارت کی علاقائی جماعت ہے جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی ہے۔

پارلیمان میں کانگریس کی سربراہی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ’مذہبی عقیدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

انھوں نے شیوسینا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب مہاراشٹر سے شیوسینا کے ارکانِ پارلیمان نے دہلی کی ایک سرکاری کینٹین میں اپنی مرضی کا کھانا نہ ملنے پر وہاں ایک روزہ دار مسملمان کارکن کو زبردستی روٹی کا ٹکڑا کھلا دیا۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ رونما ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر کینٹین میں کھانے کی فراہمی بند کر دی گئی اور کینٹین کی انتظامیہ نے شکایت کی کہ اس اقدام سے ان کے مسلمان کارکن کو ’شدید صدمہ پہنچا ہے کیونکہ ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔‘

مقامی ٹی وی چینلوں پر ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی ہے جس میں شیو سینا کے ارکانِ پارلیمان کو کینٹین کے ’روزہ دار مسلمان کارکن کو زبردستی کھانا کھلاتے ہوئے‘ دکھانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

شیوسینا نے اس واقعے کی صداقت کو مسترد کیا ہے۔

شیوسینا کے سربراہ ادھے ٹھاکرے نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔ اور اب شیوسینا کے موقف کو دبایا جا رہا ہے۔‘

پارٹی کے رکنِ پارلیمان نے سنجے رایوٹ نے اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس پورے واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے ارکانِ پارلیمان ’صرف سرکاری مہمان خانے کے خراب انتظامی امور کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔‘

اسی بارے میں