افغانستان: بسوں سے اتار کر ہزارہ برادری کے 15 افراد قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے

افغانستان کے وسطی صوبہ غور میں حملہ آوروں نے دو منی بسوں کو روک کر 15 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

صوبہ غور پولیس کے سربراہ کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات کو مسلح افراد نے دو منی بسوں کو روکا اور مسافروں کو اتار کر گولیاں ماریں۔

پولیس کے مطابق 15 افراد میں تین خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔

صوبہ غور کی پولیس کے ترجمان عبدالحئی خطیبی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’مسلح افراد نے تمام مسافروں کو بسوں سے اترنے کا حکم دیا اور لائن میں کھڑا کر کے ایک ایک کر کے سب کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔‘

پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ایک شخص اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صوبہ غور کافی حد تک مستحکم ہے اور حکومت کی تائید کرتا ہے۔

عید سے قبل بڑی تعداد میں لوگ سفر کر رہے ہیں اور گرمی سے بچنے کے لیے اکثر رات کے وقت سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں