بھارت: افطار و سحر کے لیے اب بھی توپ کے گولے داغے جاتے ہیں

Image caption افطار سے قبل توپ میں بارود ڈال کر گولہ داغنے کی تیاری جاری ہے

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے رائے سین ضلع میں رمضان کی ایک منفرد روایت آج بھی جاری ہے۔

یہاں آج بھی رمضان میں افطار و سحر کا اعلان توپ کے گولے داغنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

رائے سین سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر بھوپال اور سیہور میں بھی پہلے رمضان میں توپ داغی جاتی تھی لیکن ان دونوں شہروں میں وقت کے ساتھ یہ روایت ختم ہو گئی۔

رائے سین کے قاضی شہر ظہیر الدیں بتاتے ہیں کہ رائے سین میں پہلے توپ بڑی ہوا کرتی تھی لیکن اب چھوٹی توپ چلائی جاتی ہے۔

’پہلے قلعے سے بڑی توپ کا استعمال ہوتا تھا لیکن قلعے کو نقصان نہ پہنچے اس لیے اب اسے دوسری جگہ سے چلایا جاتا ہے۔‘

اس انوکھی روایت کا آغاز بھوپال کی بیگمات نے 18 ویں صدی میں کیا تھا۔

Image caption اس کے لیے باقاعدہ سرکاری طور پر لائسنس جاری کیا جاتا ہے

اس زمانے میں فوجی توپ سے گولے داغے جاتے تھے اور قاضی شہر کی نگرانی میں یہ کام ہوا کرتا تھا۔

آج رائے سین میں رمضان کے مہینے میں افطارو سحر کے اعلان کے لیے چلنے والی توپ کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ ایک ماہ کے لیے توپ اور بارود کا لائسنس جاری کرتے ہیں۔

مہینے بھر توپ کے استعمال میں تقریباً چالیس ہزار روپے خرچ آتا ہے جس میں سے تقریباً 5000 ہزار روپے میونسپل کارپوریشن دیتا ہے جبکہ باقی ماندہ چندہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔

رائے سین میں ایک ماہ تک روزانہ توپ چلانے کی ذمہ داری سخاوت اللہ کی ہے۔

وہ روزانہ افطار کے وقت اور سحری کے ختم ہونے سے آدھا گھنٹے پہلے اس پہاڑ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں توپ رکھی ہے اور اس میں بارود بھرنے کا کام کرتے ہیں۔

Image caption اس روایت کو بھوپال کی بیگمات سے منسلک کیا جاتا ہے

انھیں پہاڑی کے نیچے مسجد سے جیسے ہی اشارہ ملتا ہے کہ افطار کا وقت ہو گیا ویسے ہی وہ گولہ داغ دیتے ہیں۔

سخاوت اللہ اسے بہت اہم کام سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’لوگوں کو میرے توپ چلانے کا انتظار رہتا ہے۔ تبھی وہ روزہ کھولتے ہیں۔‘

پہلے تو توپ کی آواز دور دور تک سنائی پڑتی تھی لیکن اب شور شرابے کی وجہ سے اس کی رسائی میں کمی آ گئی ہے۔

اس کے باوجود شہر اور قرب و جوار کے گاؤں کے لوگوں کو توپ کے گولے کی آواز کا انتظار رہتا ہے۔

اسی بارے میں