کیا بھارت میں موروثی سیاست میں کمی واقع ہو رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’پچھلی لوک سبھا میں 29 فیصد ممبران موروثی سیاست کے باعث لوک سبھا پہنچے تھے لیکن اس بار یہ شرح 21 فیصد ہے‘

کیا بھارت میں موروثی سیاست کم ہوتی جا رہی ہے؟

تاریخ دان پیٹرک فرینچ نے 2011 میں اپنی کتاب ’انڈیا: اے پورٹریٹ‘ میں موروثی سیاست کے حوالے سے دلچسپ اعداد و شمار دیے ہیں۔

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اگر بھارت میں موروثی سیاست جاری رہی تو یہ ملک اس قدیم زمانے میں واپس چلا جائے گا جہاں بادشاہ اور شہزادے حکومت کیا کرتے تھے۔

انھوں نے اس خدشے کا بھی ذکر کیا کہ اگلی لوک سبھا ’موروثی سیاست کا ایوان‘ ہو گا۔

نیو یارک یونیورسٹی کی پولیٹیکل سائنٹسٹ کنچن چندرا نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی لوک سبھا میں موروثی سیاست کے ذریعے آنے والے افراد میں کمی آئی ہے۔

پروفیسر چندرا کے مطابق پچھلی لوک سبھا میں 29 فیصد ممبران موروثی سیاست کے باعث لوک سبھا پہنچے تھے لیکن اس بار یہ شرح 21 فیصد ہے۔

کانگریس حکومت میں کابینہ میں 36 فیصد سیاست دان موروثی سیاست کی پیداوار تپے لیکن نریندر مودی کی کابینہ میں ایسے افراد کی شرح 24 فیصد ہے۔

موروثی سیاست میں کمی کی ایک وجہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بڑے پیمانے پر جیت ہے۔ اس جماعت میں موروثی سیاست کانگریس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

بجو جتنا دل (بی جے ڈی) کے ممبر اسمبلی جے پانڈا کے مطابق ’میری نظر میں موروثی سیاستدانوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں مستقبل کی اسمبلیوں میں یہ تعداد اور کم ہو گی۔‘

لیکن پروفیسر چندرا کے اس بارے میں خیالیات مختلف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت زیادہ تر جماعتیں موروثی سیاست کے حق میں ہیں۔ بی جے پی کے 15 فیصد ایم پی، اس وقت کابینہ میں 26 فیصد وزرا اور کئی وزرا اعلیٰ کے خاندان کے افراد اس وقت اہم سیاسی پوزیشنوں پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بی جے پی کے 15 فیصد ایم پی، اس وقت کابینہ میں 26 فیصد وزرا اور کئی وزرا اعلیٰ کے خاندان کے افراد اس وقت اہم سیاسی پوزیشنوں پر ہیں‘

چھتیس سیاسی جماعتیں جن کی اسمبلی میں کم از کم ایک نشست ہے ان میں سے 13 یعنی 36 فیصد سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے خاندان والے اس سے قبل ممبر پارلیمنٹ تھے۔

’نوجوان ووٹرز کا یہ مطلب نہیں ہے کہ موروثی سیاست کو روکا جاسکے۔‘

2011 میں دہلی کے سٹڈی آف ڈیویلیپنگ سوسائٹیز کا کہنا تھا کہ 18 سے 30 سال عمر کے درمیان نوجوان ووٹرز عمومی طور پر موروثی سیاست کے خلاف تھے لیکن انھوں نے نوجوان امیدوار کے لیے اس بات کو نظر انداز کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال کے آغاز پر ایک تحقیق میں یہ کہا گیا کہ 46 فید بھارتیوں کو موروثی سیاست کی حمایت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

’یہ ایک عجیب بات تھی کہ دو میں ایک بھارتی نے کہا کہ وہ اس امیدوار کو ووٹ دینا پسند کریں گے جن کی سیاسی پس منظر ہو۔‘

بھارت میں ایک سیاست ہی نہیں جہاں موروثیت کا عمل دخل ہے بلکہ کاروبار، بالی وڈ وغیرہ میں بھی موروثیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی بارے میں