گائے کی خدمت اورسٹم سیل ریسرچ

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Jain
Image caption نو کتابوں پر مشتمل اس سیریز کے مصنف ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ہیں

ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں بچوں کو غیر معمولی تعلیم دی جارہی ہے، نصاب میں کچھ ایسی کتابیں شامل کی گئی ہیں جنھیں پڑھ کر آپ کا سر چکرا جائے گا۔

آپ کو احساس ہوگا کہ باقی ملک میں تعلیم کا معیار کتنا خراب ہے اور شاید کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ہی قوم کو، یا کم سے کم گجرات سے باہر رہنے والی قوم کو، ان عظیم دریافتوں اور سائنسی تحقیق کے غیر معمولی کارناموں سے لا علم رکھا گیا ہے جو قدیم ہندوستان میں روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔

مثال کے طور پر سٹم سیل رسرچ میں ترقی کا دعوی تو امریکہ کرتا ہے لیکن پوری محنت ہندوستانی سائنسدانوں کی ہے۔

سٹیم سیل وہ بنیادی خلیات ہیں جو کسی بھی اعضا کی شکل اختیار کرسکتے ہیں، گجراتی سکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب کےمطابق اس ریسرچ پر ایک ہندوستانی ڈاکٹر نے پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے اور خود اس ڈاکٹر نےتحریک ’مہابھارت‘ کی ہزاروں سال پرانی دیو مالائی کہانی سے حاصل کی تھی۔

ان نئی کتابوں کے مصنف ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ہیں اور ان کا دعویٰ ہےکہ سٹم سیلز کے استعمال سے ہی ان سو بھائیوں کا جنم ہوا تھا جو کورو کہلائے اور جن کی پانچ پانڈو بھائیوں سے جنگ کی کہانی مہابھارت میں بیان کی گئی ہے۔

اسی طرح ٹیلی ویژن کی جڑیں بھی مہابھارت کے زمانے تک ہی جاتی ہیں اور گاڑیوں کی ایجاد بھی ہزاروں سال پہلے ہندوستان میں ہی ہوئی تھی۔

یہ غیر معمولی کہانیاں نو کتابوں میں شامل ہیں جن میں سے آٹھ دینا ناتھ بترا نے لکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Jain
Image caption ایک کہانی میں بتایا گیا ہے کہ گائے کی خدمت کرنے سے کیسے انسانوں کی افزائش نسل ہوسکتی ہے

دینا ناتھ بترا کے دباؤ میں ہندو مذہب پر امریکی سکالر وینڈی ڈانیگر کی کتاب ان کے (ڈانیگر کے) اپنے پبلشر نے دکانوں سے ہٹا لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ماڈرن تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مغربی نظام تعلیم اختیار کر لیں، بلکہ تعلیم کو ہندوستانی رنگوں میں رنگا جانا چاہیے۔

اور اس کے رنگ برنگے نمونے سے ان کی یہ کتابیں مزین ہیں۔ایک میں بتایا گیا ہے کہ گائے کی خدمت کرنے سے کیسے افزائش نسل ہوسکتی ہے۔ گائے کی نہیں انسانوں کی۔

یہ راجہ دلیپ کی کہانی ہے جن کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ انھوں نے ایک رشی (سادھو) کو اپنی مشکل بتائی۔ سادھو نے کہا کہ گائے کی خدمت کرو۔۔۔ایک دن ایک شیر نے ایک گائے پرحملہ کیا، راجہ نے شیر سے کہا کہ گائے کو چھوڑ دو، اس کے بدلے میری جان لے لو، شیر بہت متاثر ہوا، اس نے گائے اور راجہ دونوں ہی کو چھوڑ دیا۔۔۔وقت گزرتا گیا اور اس کے یہاں کئی خوبصورت بچے پیدا ہوئے اور اس کی نسل زندہ رہی۔

ایک کہانی سوامی وویک آنند سے منسوب کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک لیکچر دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ ہندوستانی کپڑے پہننے چاہئییں۔۔۔لیکن ایک انگریز خاتون نے کہا کہ آپ نے تو خود غیرملکی جوتے پہن رکھے ہیں۔ اس پر سوامی وویک آننند خوب ہنسے اور بولے ’میں یہ ہی کہہ رہا تھا، غیر ملکیوں کی جگہ وہیں ہے۔‘

اس پر غیر ملکی خاتون لاجواب ہوگئی۔ اور ہم بھی!

مسٹر بترا کی کتابیں گجرات میں سکولوں کو مفت فراہم کی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود مہنگی ثابت ہو سکتی ہیں۔

ہماری بات تو کسی نے نہیں سنی!

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی جاسوسی کوئی نئی بات نہیں

بی جے پی کے سابق صدر اور وفاقی وزیر نتن گڈکری کے گھر سے ایسے آلات ملنے کی خبریں اخبارات میں گردش کر رہی ہیں جن سے کہیں دور بیٹھ کر ان کی بات چیت سنی جاسکتی ہو۔

یعنی الزام یہ ہے کہ کوئی ان کی جاسوسی کر رہا تھا۔ مسٹر گڈکری نے ان خبروں کی تردید کی ہے لیکن میڈیا والے کہاں سیاستدانوں کی بات پر اعتبار کرتے ہیں۔

لیکن اس الزام کے سامنے آنے کے بعد غیر معمولی طور پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے! وہی منموہن سنگھ جو خود کبھی کسی بات پر کچھ نہیں بولتے تھے۔ شاید وہ اس لیے ناارض ہیں کہ ان کی بات تو کبھی کسی نے نہیں سنی!

اسی بارے میں