پاکستان کو بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا: بھارتی فوجی سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنرل سہاگ نے جمعرات کو ہی اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور آج دفتر میں ان کا پہلا دن تھا

بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سوہاگ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر دوبارہ گذشتہ برس جنوری جیسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک بھارتی فوجی کا سرقلم کردیا گیا تھا، تو اس کا ’بھرپور اور فوری جواب‘ دیا جائے گا۔

بھارت کا الزام ہے کہ گذشتہ برس جنوری میں پاکستانی فوج کے ایک سرحدی دستے نے بھارتی حدود میں داخل ہوکر دو فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان میں سے ایک کا سر قلم کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

تب سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے اور باہمی مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

جنرل سہاگ نے جمعرات کو ہی اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور آج دفتر میں ان کا پہلا دن تھا۔

جنرل سہاگ نے کہا ’اگر ایسا کوئی واقعہ دوبارہ پیش آتا ہے تو اس کا پوری شدت کے ساتھ بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔‘

جنرل سہاگ سے یہ سوال ایک صحافی نے جنرل بکرم سنگھ کے اس بیان کے تناظر میں پوچھا تھا جس کے بعد میڈیا میں یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی کہ کیا جنوری کے واقعے کا انتقام لیا جا چکا ہے۔

جنوری دو ہزار تیرہ میں جنرل بکرم سنگھ نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی مرضی کی جگہ پر اور اپنی پسند کے موقعے پر اس حملے کا جواب دیں گے۔‘

جنرل سہاگ کو چارج سونپنے کے بعد جنرل سنگھ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ کام کیا جا چکا ہے، یہ کام مقامی کمانڈر کی سطح پر ہوتے ہیں، فوج کے سربراہ اس میں شامل نہیں ہوتے۔‘

تب سے ہی یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ کیا جنرل سنگھ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جنوری کے مبینہ واقعے کا انتقام لیا جا چکا ہے اور اگر ہاں تو پاکستان کی جانب سے کبھی کوئی ردعمل سامنے کیوں نہیں آیا۔

لیکن جنرل بکرم سنگھ کے بیان کی بنیاد پر وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعی کوئی انتقامی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔

جنرل سہاگ سے بھی جب اس ممکنہ جوابی کارروائی کی تفصیل پوچھی گئی تو انھوں نے صرف یہ کہا کہ ’اس بارے میں جنرل سنگھ پہلے ہی بتا چکے ہیں۔‘

جنرل سہاگ کی تقرری تنازع کا شکار رہی تھی اور کانگریس کی قیادت والی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں ان کے نام کی تصدیق کی تھی جس پر بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا حکومت جلدبازی سے کام لے رہی اور یہ فیصلہ نئی حکومت کے لیے چھوڑ دیاجانا چاہیے۔

جنرل سہاگ پر فوج کے سابق سربراہ اور وفاقی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی نے واضح کیا تھا کہ وہ فوج کے سربراہ کی تقرری کا احترام کرے گی۔

اسی بارے میں