چین میں ہلاکتوں کی تعداد 398، امدادی کارروائیاں تیز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے 1979 میں اسی علاقے میں زلزلے کی وجہ سے 15000 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی

چین کے سرکاری میڈیا کےمطابق ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 398 ہو گئی ہے جبکہ 1800 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

چین نے جنوب مغربی یونان صوبے میں 6.1 شدت کے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے ڈھائی ہزار فوجی روانہ کر دیے ہیں۔

ان کے پاس ملبے کے اندر موجود زندہ افراد کو تلاش کرنے اور ملبا ہٹانے کے آلات موجود ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے مطابق یہ اس پہاڑی صوبے میں گذشتہ 14 برس میں آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

شن ہوا کے مطابق زلزلے سے لیودیاں میں تقربیاً 12000 گھر گر کر تباہ ہو گئے ہیں۔ علاقے میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 تھی اور اس کا مرکز جنوب مشرقی صوبے وینپنگ سے 11 کلومیٹر دور یونان کے صوبے تھا۔ زلزلہ مقام وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکن زخمیوں کو ہسپتال لے جا رہے ہیں

زاہتانگ علاقے کا کیوجیا قصبہ زلزلے سے زیادہ متاثر ہوا جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

لونگٹوشان نامی علاقے کے سربراہ چین گوایانگ نے شن ہوا کو بتایا تھا کہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کی مدد کر رہی ہیں۔

شن ہوا کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے بعد سے لوگ عمارتوں سے نکل کر گلیوں میں آئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی جبکہ ایک سکول کی عمارت گر گئی۔

اس سے پہلے سنہ 1979 میں اسی علاقے میں زلزلے کی وجہ سے 15000 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت 7.7 تھی۔

اسی بارے میں