بھارت: گنگا میں کشتی غرقاب، ہلاکتوں کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY GUPTA
Image caption جائے حادثہ پر مقامی افراد کے علاوہ وارانسی اور مرزاپور اضلاع کے حکام بھی موجود ہیں

بھارت میں حکام نے ہندوؤں کے مقدس شہر وارانسی (بنارس) کے پاس دریائے گنگا میں ایک کشتی کے اُلٹ جانے سے متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ پرانجل یادو نے 22 افراد کے تیر کر زندہ بچنے کی تصدیق کی ہے جبکہ ورانسی کے ڈی آئی جی ایس کے بھگت نے بی بی سی سے بات چیت کے دوران تین لاشوں کے برآمد کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

اس کشتی پر تقربیا 50 افراد سوار تھے۔ بھارت کے ایک اخبار دا ڈیکن کرانیکل کے مطابق اس حادثے میں 32 افراد لاپتہ ہیں۔

یہ واقعہ وارانسی کے نزدیک روہنیا میں پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کشتی چنار سے وارانسی جا رہی تھی اور گنجائش سے زیادہ لوگوں کے سوار ہونے سے وہ الٹ گئی۔

ڈي آئي جی نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے اور یہ مزید 24 گھنٹے جاری رہ سکتا ہے۔

کشتی میں سوار تمام مسافر مرزاپور ضلعے کے رہنے والے تھے اور انھیں تقریبا 50 کلومیٹر دور گنگاپور جانا تھا۔

پرانجل یادو نے بتایا کہ کشتی میں کچھ لوگ اپنی موٹر سائیکل کے ساتھ بھی سوار ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حادثہ ’اوورلوڈنگ‘ کی وجہ سے ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY GUPTA
Image caption ڈي آئي جی بھگت نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے اور یہ مزید 24 گھنٹے جاری رہ سکتا ہے

کشتی پر سوار بہت سے مسافر ایک مندر کی زیارت سے واپس آ رہے تھے۔

وارانسی اور مرزاپور دونوں اضلاع کے اعلی حکام جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کام تیزی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاست اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے لاپتہ افراد کے گھروالوں کے لیے دو دو لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم نریندر مودی نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ نریندر حالیہ پارلیمانی انتخابات میں وارانسی سے منتخب ہوئے تھے۔

بھارت میں مون سون کے موسم میں دریاؤں میں طغیانی ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات خراب کشتی اور حد سے زیادہ افراد کے سوار ہونے سے رونما ہوتے ہیں۔

منگل کو ہی بنگلہ دیش کی پدما ندی میں اسی قسم کے ایک واقعے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں