چاچا چودھری کے خالق بھارتی کارٹونسٹ پران نہیں رہے

Image caption پران کو بھارت کے ’والٹ ڈزنی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا

بھارت کے معروف کارٹونسٹ پران کمار شرما جو پران کے نام سے زیادہ معروف رہے گذشتہ شب 76 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

پران طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

ان کی بہو جیوتی پران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وہ گذشتہ کئی برسوں سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ گذشتہ دس دنوں سے وہ ہسپتال کے آئی سی یو (انتہائی نگہداشت کے شعبے) میں تھے جہاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب میں انھوں نے آخری سانس لی۔‘

پران نے سنہ 1960 سے اپنے کارٹون کریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ملاپ سے کارٹون بنانے کی شروعات کی تھی اور بعد میں متعدد اخبارات میں رہے۔

لاہور کے نزدیک قصور میں پیدا ہونے والے پران نے گوالیئر سے گریجوایشن اور دہلی سے ایم اے کیا۔

انھوں نے دابو نام کا ایک کردار تخلیق کیا جو فینٹم اور سپرمین کا ہندوستانی ورژن کہا جا سکتا ہے۔ تاہم انھیں ان کے کردار چاچا چودھری سے زیادہ شہرت ملی۔

چاچا چودھری کا کردار انھوں نے سب سے پہلے بچوں کے لیے شائع ہونے والی میگزین لوٹ پوٹ کے لیے تخلیق کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ pran media institute
Image caption چاچا چودھری کا دماغ کمپیوٹر سے تیز چلتا ہے یہ مکالمہ بہت مشہور ہوا تھا

بعد میں وہ بھارتی کامک دنیا کے کامیاب ترین كارٹونسٹوں میں شمار کیے جانے لگے۔

اس کے علاوہ ڈائمنڈ کامکس کے لیے پران نے کئی کامیاب کرداروں کی تخلیق کی۔ ان میں رمن، بلّو اور شريمتي جي جیسے کامک کردار شامل تھے۔

متنوع اور مختلف قسم کے کرداروں کی تخلیق کے لیے انھیں بھارت کے ’والٹ ڈزنی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

ان کی پیدائش 15 اگست، 1938 کو لاہور کے قریب قصور میں ہوئی تھی۔

ان کے تخلیق کردہ کرداروں کے جملے ان کے پڑھنے والوں کے ذہن میں آج بھی تازہ ہوں گے۔ جیسے ’چاچا چودھری کا دماغ کمپیوٹر سے تیز چلتا ہے۔‘ یا پھر ’سابو کو غصہ آتا ہے تو جوالامکھی (آتش فشاں) پھٹ پڑتا ہے۔‘

گذشتہ دنوں بی بی سی سے ایک ملاقات کے دوران انھوں نے بھارت میں کارٹون کے رواں حالات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’پہلے کی بات اور تھی آج تو بھارت میں صحافت کا پورا طریقہ ہی بدل چکا ہے۔ پہلے شنکر اور كٹّي اتنے مشہور تھے کہ پہلے صفحے پر ان کے کارٹونوں کا انتظار ہوتا تھا لیکن آج تو اگر مادھوری دکشت اور ایشوریہ رائے کی تصویر ہو تو کارٹون کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا: ’دوسری بات یہ ہے کہ اب کارٹونسٹ بھی بہت کم ہیں۔ یہ قبیلہ ہی دنیا میں کم یاب ہے۔ آج اگر کوئی کارٹون بنا دے تو فورا جلوس نکلنے لگتے ہیں۔ جواہر لعل نہرو (بھارت کے پہلے وزیر اعظم) نے خود شنکر سے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ شنکر مجھے بھی مت بخشنا۔ آج کے لیڈروں میں ہے اتنا دم؟‘

اسی بارے میں