’بھارت میں نابالغ افراد پر مقدمہ چلایا جا سکے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی پارلیمان نے ابھی اس بِل کی منظوری دینی ہے

بھارتی کابینہ نے ایک ایسا مسودۂ قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ریپ اور قتل جیسے جرائم کے لیے 16 سال سے بڑی عمر کے افراد کو بالغ تصور کر کے مقدمہ چلایا جا سکے گا۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ نئی دہلی میں سنہ 2012 میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے واقعے کے بعد 16 سال سے بڑی عمر کے افراد کو سخت سزا دینے کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں اس وقت 18 سال سے کم عمر کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تین برس کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس بِل کے تحت ایسے نابالغ افراد کو زیادہ عرصے کے لیے جیل بھیجا جا سکے گا جنھیں بالغ افراد کی عدالتوں سے سزائیں ملیں گی، تاہم انھیں سزائے موت یا عمر قید کی سزا نہیں دی جا سکے گی۔

بھارتی پارلیمان نے ابھی اس بِل کی منظوری دینی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں دہلی میں ایک طالبہ کو بس میں شدید تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں تشدد کا شکار ہونے والی طالبہ کچھ روز بعد ہلاک ہو گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد ریپ اور خواتین پر تشدد کے واقعات کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہوئے تھے۔

گذشتہ ہفتے بھارت میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ نئے بِل کا مقصد ریپ جیسے سنگین جرائم کے مرتکب نوجوانوں کو سخت ترین سزا دلوانا اور خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب بچوں کے حقوق کی تنظیوں نے اس بِل پر تنقید کی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشل نے بھی بھارتی حکومت سے اس بِل کو مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں