’لَوجہاد‘ پر ہندو قوم پرستوں کی ناراضگی

Image caption ہندو سخت گیر تنظیمیں ایک عرصے سے مبینہ لوجہاد کے خلاف سرگرم ہیں

بھارت کے دارالحکومت دہلی سے ملحق مغربی اتر پردیش میں ہندو قوم پرستوں نے ’لَو جہاد‘ کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ ویسے تو یہ محبت کی جنگ ہے لیکن محبت کے نام پر جام شہادت پینے والوں کو جواب نفرت سے دیا جا رہا ہے۔

لیکن محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔

قوم پرستوں کا الزام یہ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو ایک وسیع تر سازش کے تحت اپنی محبت کے جال میں پھنسا رہے ہیں اور اس غیر معمولی حکمت عملی کو انھوں نے ’لَو جہاد‘ کا نام دیا ہے۔

جوابی کارروائی شروع ہوگئی ہے اور مغربی اتر پردیش کے کئی علاقوں میں تنظیم کے کارکن گھر گھر جاکر ہندو لڑکیوں کے ہاتھوں پر راکھی باندھ رہے ہیں، انھیں یہ سمجھانے کے لیے کہ وہ مسلمان نوجوانوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی محبت میں گرفتار نہ ہوں۔

گذشتہ برس جب مظفر نگر میں فسادات ہوئے تھے تب بھی یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ’لَو جہادی‘ چاروں طرف پھیل گئے ہیں۔ پھر گذشتہ ہفتے میرٹھ میں ایک ہندو لڑکی نے ایک مدرسے سے وابستہ کچھ لوگوں پر اجتماعی ریپ کا الزام لگایا تو قوم پرستوں نے کھل کر اعلان جنگ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کئی مغل سلاطین نے راجپوت شہزادیوں سے شادی کی تھی

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان نوجوانوں کو محبت کی تربیت کون دے رہا ہے اور جب ہندو لڑکے مسلمان لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں تو کیا وہ ’ریورس لَو جہاد‘ ہوتا ہے، اور انھیں محبت کر کے انتقام لینے کی تربیت کون دے رہا ہے؟

بہرحال، تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو اکبر اعظم سمیت کئی مغل بادشاہوں نے ہندو راجپوت شہزادیوں سے شادیاں کیں، نائب صدر جمہوریہ ایم ہدایت اللہ کی اہلیہ کا نام پشپا تھا، بالی وڈ میں ہندو لڑکیوں سے شادی کرنےوالوں میں فیروز خان تھے، پھر نصیر الدین شاہ ہیں، عامر خان ہیں، شاہ رخ ہیں، سیف علی خان ہیں (ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ)، ان کے والد نواب منصور علی خان پٹودی تھے، اظہرالدین ہیں، استاد امجد علی خان ہیں ۔۔۔

یہ فہرست بہت لمبی ہے، قوم پرست ہی بتائیں گے ان لوگوں کے نام ’لَو جہادیوں‘ کی فہرست میں لکھے جائیں گے یا نہیں۔ اور کیا اعتراض کرنے والے فیصلہ کرنے سے پہلے ان لڑکیوں سے بھی ان کی رائے پوچھیں گے یا نہیں؟

خاموشی سے دلوں کو جوڑ رہے ہیں مودی

تصویر کے کاپی رائٹ manish shandilya
Image caption تقریباً بیس سال بعد بہار میں نیتیش اور لالو پرساد ساتھ آئے ہیں

نریندر مودی کے انداز سیاست پر ا عتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں، لیکن بہار پر نظر ڈالیں تو اس کا الٹ نظر آتا ہے۔

وہاں نریندر مودی کی بدولت دس ایسے سیاسی حریف گلے شکوے بھلا کر بغل گیر ہو رہے ہیں جنھیں ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا۔

20 سال بعد بہار کے وزرائے اعلیٰ سابق وزیراعلیٰ لالوپرساد یادو اور نتیش کمار پھر ایک سٹیج پر نظر آرہے ہیں، اور ان کا نصب العین یہ ہے کہ بہار میں کسی بھی قیمت پر نریندر مودی کو روکا جائے۔ اس کام میں کانگریس بھی ان کے ساتھ ہے۔ اب بھلائی کا زمانہ نہیں رہا۔

تینوں کو مودی کا شکر گزار ہونا چاہیے، لیکن ’لَو جہاد‘ کے اس ماحول میں اب پرانے فیشن کے پیار محبت اور نیک نیتی کی پروا بھلا کون کرتا ہے۔

عدلیہ میں بدعنوانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹس کاٹجو کا کہنا ہے کہ پانچ جج تو اتنے بدنام تھے کہ وہ چاہتے تھے کہ انھیں عدالت کے احاطے میں داخل ہی نہ ہونے دیا جائے

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے پھر اعلیٰ عدلیہ میں بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔ اس مرتبہ نشانے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے بعض سابق جج ہیں۔ جب جسٹس کاٹجو سپریم کورٹ کے جج تھے تب بھی انھوں نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی تھی۔

جسٹس کاٹجو کا کہنا ہے کہ پانچ جج تو اتنے بدنام تھے کہ وہ چاہتے تھے کہ انھیں عدالت کے احاطے میں داخل ہی نہ ہونے دیا جائے۔ ان سے کہا جائے کہ کورٹ آنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی تنخواہ گھر پہنچتی رہے گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس اس کے لیے تیار نہیں ہوئے کیونکہ انھیں عدلیہ کی بدنامی کی فکر تھی۔

لیکن جسٹس کاٹجو نے ایک اور حیرت انگیز دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے نام ظاہر کیے بغیر لکھا ہے کہ ایک جج کو الٰہ آباد ٹرانسفر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بدعنوان تھے۔

اب یہ نتیجہ آپ خود اخذ کیجیے کہ یہ کیسی سزا ہے؟ ان صاحب کو سبق سیکھنے کے لیے الہ آباد بھیجا گیا تھا یا سکھانے کے لیے؟

اسی بارے میں