’اگلے چار سال میں بھارت کے ہرگھر میں ٹوائلٹ ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بیٹیوں کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کروایا جاتا ہے‘

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پانچ ایسے پیغامات تھے جو کہ سننے میں مخصوص اور منفرد لگے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی ان باتوں پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

’بیٹوں سے پوچھیں وہ کہاں جا رہے ہیں، نہ کہ بیٹیوں سے‘

بھارتی وزیراعظم نے ملک میں پیش آنے والے لاتعداد ریپ کیسز کی مذمت کی اور والدین کو اپنے بیٹوں کی بہتر طریقے سے پرورش کے حوالے سے مشورے دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہرگھر میں والدین بیٹیوں سے سوالات پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں جا رہی ہیں، کب واپس آ ئیں گی، اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ کر گھر اطلاع کریں۔ لیکن کیا آپ نے اپنے بیٹے سے پوچھا ہے کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ اس کے دوست کون ہیں؟ آخر کار ریپ کرنے والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ غلط راستے پر جانے سے روکنا والدین کا کام ہے۔‘

بھارت کی عموماً جاگیردارانہ اور پدری سماج میں کارکن اور مبصرین ایک طویل عرصے سے شکایت کر رہے ہیں کہ بیتیوں کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کروایا جاتا ہے جب کہ بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلے میں زیادہ لاڈ پیار ملتا ہے۔

’اپنی بیٹیوں کو نہ ماریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارتی وزیراعظم نے اس سماجی خیال کو بھی چیلنج کیا کہ لڑکے آ گے جا کر والدین کا خیال رکھیں گے اور بیٹیاں جہیز مانگیں گی

مودی نے لاکھوں لڑکیوں کے لاپتہ ہونے پر بھی پریشانی ظاہر کی اور بیٹیوں کے قتل کو روکنے کے لئے عوام سے اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اس وقت جنسی تناسب لڑکوں کے حق میں ہے۔ یہ عدم توازن خدا نے نہیں پیدا کیا۔‘ انھوں نےڈاکٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ’پیسوں کے لیے نوزایدہ بچیوں کو قتل نہ کریں۔‘

بھارتی وزیراعظم نے اس سماجی خیال کو بھی چیلنج کیا کہ لڑکے آ گے جا کر والدین کا خیال رکھیں گے اور بیٹیاں جہیز مانگیں گی۔مودی نےکہا کہ لڑکیاں بھارت کی ترقی میں برابر کی شریک دار ہیں۔

’بھارت سپیروں والا ملک نہیں ہے‘

ملک کے نوجوان کمپیوٹر ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اب وہ ملک نہیں رہا جہاں بس ننگے فقیر اورسپیرے ہوں۔

مودی کے مطابق وہ ایک ’ڈیجیٹل بھارت‘ کا تصور کرتے ہیں: ’ماضی میں بھارت ریلوے کے ذریعے منسلک ہوتا تھا لیکن اب اس کی جگہ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔‘ مودی خود بھی ٹیکنالوجی سے باخوبی واقف ہیں اور ٹوئٹر اور فیس بک پر ان کی بڑی تعداد میں فالو ورز ہیں جن سے وہ براہ راست رابطہ کرتے ہیں۔

تاہم ہندوستان کی 1.2 ارب کی آبادی میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کی تعداد صرف پندرہ کروڑ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اگلے چار سال میں بھارت کے ہرگھر کے اندر ایک ٹوائلٹ لگے گا‘

’میں ٹوائلٹ کی بات کیوں کر رہا ہوں؟‘

اکثر ہندوستانیوں کی طرح مودی بھی ارد گرد کے تمام گند سے بیزار تھے اور انھوں نے سب بھارتیوں کو کہا کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

یاد رہے کہ بھارت میں لاکھوں لوگوں کے پاس بیت الخلا کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ وہ کھلے میدانوں کو عوامی ٹوئلٹ میں تبدیل کرنے کے رواج کا خاتمہ کریں گے۔

مودی نے ہرسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹوئلٹوں کی سہولیات فرہام کرنے کا وعدہ کیا اور اگلے چار سال میں بھارت کے ہرگھر کے اندر ایک ٹوائلٹ لگانے کی بھی یقین دہانی کروائی۔

’پاکستان نہیں، نیپال‘

گزشتہ برسوں میں مختلف بھارتی وزرائے اعظم اپنی سالانہ یوم آزادی کی تقاریر میں پاکستان کو خبردار کرتے رہے ہیں لیکن مودی کی اس تقریر میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں پایا گیا۔ اس کے بجائےانھوں نے نیپال کی بات کی۔

ماؤ نواز باغیوں کے حوالے سے انھوں نے نیپال کی مثال دی اور کہا: ’انھوں (نیپال کے ماؤنواز) نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہ اب ایک نئے آئین کے انتظار میں ہیں۔ یہ گمراہ نوجوانوں کے لئے ایک مثال ہے۔‘