مودی آزادی کے 67 برس بعد غربت کا خاتمہ کرسکیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ 67 برس میں تمام سکیموں، حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کے باوجود ملک کی ستّر فی صد عوام غریب ہی رہی ہے

بھارت کی آزادی کے بعد گذشتہ 67 برس سے سیاسی حکمراں ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لیے سینکڑوں سکیمیں، پروگرام اور منصوبے لا چکے ہیں۔ صورتحال میں کچھ تبدیلی ضرور آئی لیکن غربت کی جو مجموعی صورتحال تھی وہ کم و بیش آج بھی پہلے کی طرح اپنی جگہ موجود ہے۔

یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے اپنے خطاب میں اس حقیققت پر زور دیا کہ انھوں نے خود ذاتی طور پر غربت کا سامنا کیا ہے اور وہ غریبی کے درد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

گذشتہ 67 برس میں تمام سکیموں، حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کے باوجود ملک کی ستّر فی صد عوام غریب ہی رہی۔ اسی مدت میں، انڈونیشیا، ملیشیا، چین، کوریا اور تھائی لینڈ جیسے ایشیائی ملکوں نے غربت کے خاتمے میں زبردست کامیابی حاصل کی اور اب ان ممالک کا دنیا کے کاماب ملکوں میں شمار ہو رہا ہے۔

بھارت میں آزادی کے بعد سیاست پر شہروں کے امیر طبقے اور گاؤں کے زمیندار طبقے کی مکمل اجارہ داری قائم ہو گئی۔ سیاست اس طبقے کے ذاتی مفاد کی تکمیل کاذریعہ بن گئی۔ یہی صورتحال، جنوبی ایشیا کے دوسری ممالک، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کی بھی ہے۔

آزاد بھارت میں نیا سیاسی طبقہ بادشاہوں اور انگریزوں کے سامراجی دور سے بھی زیادہ طاقتور اور دولتمند بن گیا۔ ریاستی اور قومی سطح کے کئی سیاسی رہنما اتنے طاقتور اور دولتمند ہو چکے ہیں کہ ماضی میں بڑے بڑے شہنشاہوں کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوا کرتی تھی۔ نئی نسل کے ان نئے سیاسی بادشاہوں نے بھارت کے جمہوری نظام کا سب سے زیادہ استحصال کیا۔

لیکن اس سیاسی سلطنت کو اب چیلنج کا سامنا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک رہی ہو یا بھارت کے سیاسی افق پر آپ پارٹی کا ظہور، یہ بھارت کے سیاسی نظام میں پھیلی ہوئی بے چینی کا پتہ دیتے ہیں۔ نریندر مودی کا وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنا بھی بھارت کی سیاست میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا عکاس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مودی کے آمد ملک کے سیاسی نطام میں تبدیلی کا اشارہ ہے

مودی پر ابھی تک ساری بحث کومیونل اور سکیولر کے پیرائے تک محدود رہی ہے۔ ابھی تک انتہائی غربت کے حالات سے وزارت عظمیٰ تک ان کے سفر پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ سفر تن تنہا اپنی محنت طاقت اور صلاحیت سے طے کیا ہے۔ اب وہ بھارت کی سیاست کا محور ہیں۔

مودی کی آمد سے بھارت کی سیاسی جماعتوں میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ان کی آمد مرکز میں صرف ایک حکومت کی تبدیلی کا نہیں بلکہ ملک کے سیاسی نطام میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ خود حکمراں بی جے پی کے اندر بے جینی پھیلی ہوئی ہے۔ بڑے بڑے رہنما بے یار ومددگار پھر رہے ہیں۔ شکست کھائی ہوئی کانگریس اپنے وجود کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔ کئی علاقائی جماعتیں خود کو بچانے کے لیے اپنے نظریاتی محالفین اور دشمنوں سے اتحاد کر رہی ہیں۔ پرانی سیاست کی بساط کسی تنکے کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔

ملک کا سیاسی نظام اب ایک مختلف ڈگر پر ہے۔ ملک کی بے چین اکثریت ایک طویل عرصے سے موثر جوابدہ فیصلہ کن طرز کے نظام کی خواہان تھی۔ مودی نے گجرات میں پندرہ برس کی اپنی حکومت میں ایسا کوئی غیر معمولی کام نہین کیا ہے جو بعض دوسرے با صلاحیت ریاستی رہنماؤں نے نہ کیا ہو۔ لیکن جو واحد صلاحیت انہیں ملک کے تمام رہنماؤں سے منفرد کرتی ہے وہ لوگوں کی بے چینیوں اور تمناؤں کو سمبھنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔

وزیر اعظم مودی کو یہ معلوم ہے کہ مستقبل کا بھارت کیسا ہونا چاہيئے۔ وہ عوام کی تمناؤں اور خوابوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ وہ مستقبل کے اس چیلنج کا کامیابی کے ساتھ سامنا کر نے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ مودی سیاسی شہنشاہیت کے سخت خلاف ہیں۔آنے والے چند مہینوں میں یہ معلوم ہو سکے گا کہ ان کی صلاحیت صرف خوابوں کو سمجھنے تک محدود تھی یا وہ اسے تکمیل تک پہنچانے کی بھی قوت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں