بھارت: اروم شرمیلا کو رہا کر دیا گیا

اِروم شرمیلا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اِروم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گی

بھارتی ریاست منی پور میں فوج کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف گزشتہ 14 سال سے بھوک ہڑتال کرنے والی اروم شرمیلا کو عدالتی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔

منی پور کی ایک عدالت نے منگل کو اروم شرمیلا کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

منی پور میں سیکورٹی فورسز کے خصوصی اختیارات سے متعلق قانون (افسپا) کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اروم شرمیلا تقریباً 14 سال سے بھوک ہڑتال کر رہی ہیں اور وہ خودکشی کے الزام میں منی پور کے ایک ہسپتال میں عدالتی حراست میں تھیں۔

ان کی رہائی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا ’شرمیلا پر خودکشی کی کوشش کا الزام ثابت نہیں ہوتا‘

بدھ کو رہائی کے بعد شرمیلا نے کہا کہ افسپا پر ان کا نظریہ تبدیل نہیں ہوا اور جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا وہ بھوک ہڑتال جاری ركھیں گي۔

42 سالہ اروم شرمیلا کو نلی کے ذریعے کھانا کھلایا جاتا رہا ہے۔

اروم شرمیلا نے نومبر سنہ 2000 میں اپنی بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی تھی جب امپھال میں آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

ان کی بھوک ہڑتال کے تین دن بعد انھیں خود کشی کی کوشش کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں