بچھڑنے کے 17 سال بعد والدین سے ملاقات

گڑیا اپنی والدہ کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ Manish Saandilya
Image caption کئی برس پہلے کے واقعہ کو یاد کر کے گڑیا کی والدہ کی آنکھیں آج بھی بھر جاتی ہیں

بھارت میں چھ سال کی عمر میں ٹرین سفر کے دوران گھر والوں سے بچھڑ جانے والی گڑیا نامی لڑکی 17 سال بعد اپنے والدین سے ملی۔

گڑیا تقریباً 17 سال بعد اپنے والدین کے گھر پہنچی ہیں۔

اس دن چھوٹے لال یادو کے یہاں جشن کا ماحول تھا کو پٹنہ کے ایک محلے میں رہتے ہیں۔

یہ جشن چھوٹےلال یادو کی اکلوتی بیٹی گڑیا کی 17 سال بعد گھر واپسی کی خوشی میں منایا جا رہا تھا۔

گڑیا آسام کے شہر گوہاٹی میں رہنے والے جوڑے نيلاكشي شرما اور راجو سنگھ کی کوششوں سے اپنے گھر واپس پہنچ پائی ہیں۔

نيلاكشي آسام ریاست میں بچوں کے تحفظ سے متعلق کمیٹی کے لیے کام کرتی ہیں اور ان کے شوہر راجو وکیل ہیں۔

گڑیا کے بچھڑنے کے بارے میں چھوٹے لال یادو بتاتے ہیں ’وہ اپنے ماموں اجیت کے ساتھ ٹرین سے گوہاٹی جا رہی تھی کہ اجیت برونی اسٹیشن پر اترے تو انھیں پلیٹ فارم پر ہی نیند آ گئی اور گڑیا ٹرین کے ساتھ گوہاٹی پہنچ گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ manish saandilya
Image caption اتنے سال بعد بھی گڑیا نے اپنے والدین کو فوراً پہچان لیا

اس کے بعد تقریباً 15 سال کا طویل وقت گڑیا نے گوہاٹی کے سرکاری بچہ گھر میں گزارا پھر وہ سنہ 2012 میں نيلاكشي اور راجو کے خاندان کا حصہ بنیں۔

گڑیا نيلاكشي کے گھر تو آ گئیں لیکن وہ گم سُم اور اداس رہتی تھیں ایسے میں نيلاكشي اور راجو نے گڑیا کے خاندان کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔

گڑیا کو اپنے ماضی کے بارے میں کچھ ہی باتیں یاد تھیں۔

گڑیا بتاتی تھیں کہ ان کے والد کا نام ستن رائے ہے، جو ایک بسکٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور اس کے گھر کے پاس سے ریل گزرتی ہے اور گھر کے سامنے ایک کمہار کا گھر ہے۔

اتنی سی معلومات کے سہارے اس جوڑے نے گڑیا کا خاندان تلاش کرنا شروع کیا۔

انھوں نے پہلے گوگل کی مدد سے بہار کی بسکٹ فیكٹريوں کی فہرست نکالی اور اس کے ساتھ گذشتہ ماہ پٹنہ آ گئے۔

انھوں نے پٹنہ میں الیکشن کمیشن کے دفتر جا کر ستن رائے نام کے ایسے لوگوں کو تلاش کرنا شروع کیا جو ان بسکٹ فیکٹریوں کے قریب رہتے تھے۔

پھر نام اور پتوں کے ساتھ انھوں نے موكاما اور حاجی پور جا کر نئے اور پرانے بسکٹ فیکٹریوں والے علاقے میں جا کر گڑیا کے خاندان کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن انھیں وہاں انھیں مایوسی ہوئی تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ manish saandilya
Image caption گڑیا کو انکے والدین سے ملوانے میں نیلاکشی اور انکے شوہر نے اہم کردار اد کیا

انھوں نے واپس گوہاٹی پہنچ کر گوگل کی مدد سے نالندہ بسکٹ فیکٹری کے ڈائریکٹر سنیل اگروال کا نمبر تلاش کیا اور انھیں فون کیا۔

سنجے نے پوری بات تحمل سے سنی اور دس ہی منٹ بعد انھوں نے فون کر بتایا کہ ستن رائے نہیں لیکن ستیندر رائے نام کا ان کا ایک ملازم ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ستیندر کا مکان مالک چھوٹےلال یادو بھی ان کی ہی فیکٹری میں کام کرتے ہیں جن کی بیٹی بھی سنہ 1996 میں گم ہو گئی تھی۔

اس کے بعد جوڑے نے ای میل کے ذریعے چھوٹےلال اور ان کی بیوی پجيريا دیوی کی تصویر منگوائی اور پھر چہرہ، واقعہ اور چھوٹےلال یادو کے گھر کے آس پڑوس کی تصدیق کرنے کے بعد انھیں یقین ہو گیا کہ گڑیا چھوٹےلال کی ہی بیٹی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ manish saandilya
Image caption والدین سے بچھڑنے کے بعد گڑیا نے آسام کے ایک بچہ گھر میں پناہ لی

گڑیا کی ماں پجيريا دیوی کی آنکھیں 17 سال پہلے کے دردناک واقعہ کو یاد کر آج بھی بھر آتی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ اس حادثے کے بعد ان کے چھوٹے بھائی اجیت نے ان کے پیروں پر گرتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے اور انھیں ہر سزا قبول ہے۔

گڑیا کے بھائی اجے بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ان کے ماموں پریشان اور شرمندہ رہنے لگے تھے اور بہت عرصے بعد ان کی زندگی عام ہو پائی تھی۔

اب جیسے ہی گڑیا کے واپس مل جانے کی خبر ان کو ملی تو ان کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا کہ ان کی ’پیشانی کا داغ مٹ گیا‘۔

گڑیا ٹوٹی پھوٹی ہندی بول پاتی ہیں جس پر صاف طور پر آسام زبان کا لہجہ صاف دکھائی دیتا ہے وہ بتاتی ہیں کہ 17 سال بعد بھی انھیں والدین کو پہچاننے میں پریشانی نہیں ہوئی لیکن پانچ بھائیوں میں سے صرف وہ سب سے بڑے بھائی کو ہی پہچان پائیں۔

گڑیا کو والدین کا گھر ملا ہے تو ان کا ایک گھر بچھڑا بھی ہے گڑیا کہتی ہیں کہ ایک طرف انھیں والدین سے ملنے کی خوشی ہے تو دوسری جانب گوہاٹی کا گھر چھوٹنے کا دکھ بھی ہے۔

گڑیا کے بقول وہ پٹنہ والے گھر آتی جاتی رہیں گی تاہم وہ گوہاٹی میں ہی رہیں گی۔