بھارت کا انگریزی پر اعتراض کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’مخالفت انگریزی سے نہیں، بلکہ انگریزی زبان کی حکمرانی سے ہے‘

بھارت میں اس ہفتے ملک کے سول سروس امتحانات میں داخلے کا ٹیسٹ شروع ہو جائے گا جس میں ایک ہزار کے قریب لوگ منتخب کیے جائیں گے۔

دو پرچوں پر مبنی پہلے مرحلے کا یہ ٹیسٹ اتوار کے روز ہوگا۔ اس ٹیسٹ میں سی سیٹ نامی ایک پرچہ انگریزی کی قابلیت کا امتحان لیتا ہے۔ یہ ٹیسٹ 2011 میں متعارف کروایا گیا تھا۔

25 لاکھ امیدواروں میں اکثر ایسے ہیں جو کئی سالوں سے اس ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن ان میں سے محض پانچ فیصد اگلے مرحلے کے لیے کامیاب ہو پائیں گے۔

اس سال ٹیسٹ میں شرکت کرنے والے سی سیٹ والا پرچہ نہیں دے رہے۔ اس کی وجہ دہلی میں گذشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہیں جن میں کئی امیدواروں نے اعتراض کیا تھا کہ سی سیٹ ہندی میڈیم سکولوں میں پڑھنے والوں کے خلاف امتیازی سلوک برتتا ہے۔

اس کے نتیجے میں بھارتی جنتا پارٹی نے ٹیسٹ کے اس حصے میں لیے جانے والے نمبروں کو غیر موثر قرار دیا ہے۔

Image caption نریندر مودی کئی بار یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ہندی زبان کو ترجیح دیتے ہیں

سی سیٹ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ جب سے یہ حصہ شامل ہوا ہے تب سے بہت کم ہندی میڈیم امیدوار اس میں کامیاب ہو پائے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ سال کامیاب ہونے والوں میں سے صرف 2.3 فیصد کا تعلق غیر انگریزی سکولوں سے تھا۔ سنہ 2009 کے مقابلے میں یہ 25 فیصد کمی ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی قوم پرست جماعت نے بھی ہندی زبان کی حمایت کی ہے۔ ان کی انتظامیہ نے سرکاری اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور سرکاری خط و کتابت میں ہندی زبان استعمال کریں۔

تاہم جب ملک کے جنوبی صوبوں نے تنقید کی، جہاں ہندی کم بولی جاتی ہے، تو حکومت نے واضح کیا کہ یہ پالیسی صرف بھارت کے شمالی حصوں تک محدود رہے گی جہاں ہندی بولنے والوں کی اکثریت ہے۔

ماضی میں یہ موضوع خاصا متنازع رہا ہے۔ بھارت میں 22 بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں جس میں ہندی بولنے والوں کی تعداد 40 فیصد ہے۔اس بنیاد پر سی سیٹ ٹیسٹ کے حمایتی کہتے ہیں کہ بھارت میں مختلف ریاستوں یا صوبوں کے لوگوں کے درمیان بات چیت اکثر انگریزی میں ہوتی ہے نہ کہ ہندی میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کی سوا ارب آبادی کا 40 فیصد حصہ ہندی بولتا ہے

دوسری جانب ٹیسٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ہندی زبان کے حمایتیوں کے مطابق یہ معاملہ خاصا پیچیدہ اور اہم ہے۔ ’دھیا آئی اے ایس‘ نامی سول سروسز ٹریننگ سنٹر کے صدر مکند مانند شاما کہتے ہیں کہ اس ٹیسٹ میں بڑھتی ہوئی معاشی اور معاشرتی تقسیم نظر آتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ معاملہ ’ہندی بمقابلہ انگریزی کا نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے انڈیا کے مقابلے میں بھارت کہنا۔‘

اسی طرح عام آدمی پارٹی کے ایک اہلکار یوگیندرا یادونے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ ’مخالفت انگریزی سے نہیں، بلکہ انگریزی زبان کی حکمرانی سے ہے۔‘

فی الحال بھارت میں اس امتحان کے فورمیٹ پر بحث جاری ہے اور نظر یہی آتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بحث جاری رہے گی۔

اسی بارے میں