کشمیر کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر کے سلسلے میں مودی حکومت کا یہ موقف ماضی کی پالیسیوں کے مقابلے بالکل مختلف اور غیرلچکدار ہے

آئندہ ہفتے 25 اگست کو بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ مذاکرات کا آغاز ہونے والا تھا۔

بات چیت کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، مذاکرات کے لیےفضا بہت سازگار تھی اور ایک طویل عرصے کے بعد تعلقات میں بہتری کے آثار نطر آرہے تھے لیکن جیسے ہی پاکستان کے ہائی کمشنر نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت شروع کی ، بھارت نے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب پاکستان کے سفارتکاروں یا رہنماؤں نے مذاکرات سے قبل کشمیری علیحدگی پسندوں سے بات کی ہو اور اس طرح کی بات چیت گزشتہ دو دہائیوں میں ہوتی رہی تھی۔

تاہم اس مرتبہ بھارت کی حکومت نے انتہائی سختی سے کشمیری رہنماؤں سے پاکستانی ہائی کمشنر کی بات چیت کی پیشگی مخالفت کی اور بات چیت شروع ہوتے ہی خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات منسوخ کر دی۔

یہ کشمیر کے بارے میں مودی حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا واضح اشارہ ہے۔

بھارت کے ٹی وی چینلوں پر نظر آنے والے عسکری پالیسی سازوں اور دائیں بازو کے دانشوروں نے حکومت کے اس قدم کی ستائش اور حمایت کی ہے لیکن قومی اخبارات کے بیشتر مضامین اور اداریوں میں حکومت کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان اداریوں میں یہ بتایا گیا ہے بات چیت منسوخ کر کے حکومت نے کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی کو محدود کر لیا ہے اور خود اپنے لیے صورتحال پیچیدہ بنا لی ہے۔

پاکستان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر سے آیا تھا۔ اس کا واضح مقصد پاکستان کو قطعی طور پر یہ بتانا ہے کہ کشمیر ایک باہمی معاملہ ہے اور پاکستان سے وہ اس بارے میں اپنی شرائط پر ہی بات چیت کرے گا۔

مودی حکومت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں کشمیری علیحدگی پسندوں کی موجودہ قیادت سے وہ صرف اسی صورت میں کوئی بات چیت کرے گی جب وہ بھارت کی شرائط کے تحت بات چیت کے لیے آمادہ ہوں۔

کشمیر کے سلسلے میں مودی حکومت کا یہ موقف ماضی کی پالیسیوں کے مقابلے بالکل مختلف اور غیرلچکدار ہے۔

مودی حکومت پاکستان سے اپنے تعلقات بہتر کرنے میں کافی سنجیدہ ہے لییکن اس عمل میں توجہ کشمیر پر نہیں باہمی تعلقات پر ہوگی اور کشمیر پر اس کی توجہ اندرونی طور پر ہو گی۔

مودی حکومت ایک بالکل نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ اگرچہ اس بدلی ہوئی حکمت عملی کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن جو اشارے مل رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت بھارت کے زیر انتظام کشمیرمیں اقتدار میں آنے کی تدبیر تیار کر رہی ہے۔

کشمیر کی سیاسی نوعیت کے کئی بنیادی سوالوں پر حالیہ دنوں میں بحث چھڑی ہے ۔ ریاست میں حکمراں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی عوامی مقبولیت انتخابی نقطۂ نظر سے کافی کم ہوئی ہے اور آئندہ چند مہینوں میں ہونے والے انتخابات میں ان کے لیے حالات اچھے نہیں نظر آ رہے۔

پچھلے دنوں کانگریس کے ایک سینیئر رہنمانے یہ سوال اٹھایا کہ اگر بھارت کا وزیر اعظم ایک سکھ اور صدر مملکت ایک مسلم ہو سکتا ہے تو مسلم اکثریتی کشمیر کا وزیر اعلی ایک ہندو کیوں نہیں ہو سکتا۔

اس سے پہلے کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک مرکزی وزیر نے دفعہ 370 ختم کرنے کے بارے میں بحث شروع کرنے کی بات کی تھی جس کے تحت غیر کشمیری کو کشمیر میں زمین کی ملیکت اور وہاں مستقل رہائش کا حق حاصل نہیں ہے۔

مودی حکومت کی کشمیر پالیسی میں علیحدگی پسندوں سے بات چیت کی جگہ نہیں ہو گی۔ مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد پاکستان سے بھی بات چیت کا فی الحال سلسلہ ٹوٹا رہے گا۔

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں آنے والے چند مہینوں میں کشمیر کے حوالے سے مودی کی پالیسیاں اور حکمت عملی واضح ہو سکے گی۔

لیکن جو بات ابھی سے طے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے حوالے سے نئی حکومت کی پالیسی سخت اور بے لچک ہو گی اور کشمیر کی سیاست کے بہت سے کردار اس بدلی ہوئی حکمت عملی میں اپنی معنویت کھو دیں گے۔

اسی بارے میں