کشمیر جھڑپیں: چار شدت پسند، دو فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے قریبی سیکڑوں میں فوج پر دو الگ الگ حملوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں 4 شدت پسند ہلاک جبکہ 2 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

کپواڑہ کے پولیس افسر عبدالجبار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اتوار کی صبح مسلح شدت پسندوں نے کلاروس سیکٹر میں زیڈ گلی سے بھارتی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو فوج نے انہیں گھیر لیا۔ اس موقع پر تصادم ہوا جس میں ایک فوجی اہلکار نائیک نیرج کمار سنگھ اور چار شدت پسند مارے گئے۔ جوابی آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔‘

لائن آف کنٹرول کے قریبی ضلع کپواڑہ میں ہی کیرن سیکڑ کے قریب مسلح شدت پسندوں نے سنیچر کی رات فوج کے ایک گشتی دستے پر فائرنگ کی جس میں ایک فوجی اہلکار راہُل کمار ہلاک ہوگیا۔

پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ حملہ آورگھنے جنگلوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے تاہم ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاروس تصادم کے دوران فوج نے ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور آمدورفت ابھی بھی سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے دشواریوں کا شکار ہیں

اٹھارہ اگست کو جب دہلی میں پاکستانی سفیر عبدالباسط نے بھارتی اعتراض کے باوجود کشمیری علیحدگی پسندوں کےساتھ دہلی کے پاکستان ہاؤس میں ملاقات کی تو حکومتِ ہند نے پچیس اگست کو خارجہ سیکڑیوں کی طے شدہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان کردیا۔

اسی دوران بیس اگست سے جموں اور پونچھ کے بعض مقامات پر لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت سرحد پر دونوں ملکوں کے مابین فائنرگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

سنیچر کو دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا کہ ان کی افواج نے ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس کی زد میں آکر بھارت کے دو اور پاکستان کے دو سرحدی باشندے مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیری رہنما یاسین ملک پاکستانی سفیر سے ملاقات کے لیے دہلی میں پاکستانی سفارت خانے پہنچ رہے ہیں

بھارتی علاقے میں سرحدی تناؤ کا تازہ مرکز رنبیر سنگھ پورہ یا آر ایس پورہ ہے۔ جموں کا یہ قصبہ سرینگر سے جنوب کی جانب تین سو کلومیٹر دوری پر ہے جہاں پندرہ ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں۔

ہندو اکثریت والے اس قصبے میں بھارت کی کئی فوجی اور نیم فوجی تنصیبات ہیں۔ اس قصبے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین میں جب بھارت اور پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ کیا کہ اس سیکٹر سے گزرنے والی بین الاقوامی سرحد پر بھی امن قائم ہوگیا تھا جسکے نتیجہ میں یہاں زرعی سرگرمیاں بحال ہوگئی تھیں۔

لیکن اب یہاں کی آبادی خوف زدہ ہے۔ یہاں ایل او سی کے قریب کروتیہ اور جودا فارم دیہات کے چند باشندوں میں سے اکثر نے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کر لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی میں پاکستانی سفیر سے ملاقات کرنے والوں میں کشمیرر رہنما سید علی گیلانی بھی شامل تھے

دریں اثنا پاکستان کے ساتھ ملنے والی بھارت کی عالمی سرحد کے بعض حصوں پر اسرائیلی طرز کی ایک پختہ دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتی نیم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دس میٹر اونچی یہ دیوار جموں کی ایک سو اٹھارہ بستیوں سے گزرے گی۔

بھارت کے وزیردفاع ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اگست کے وسط تک پاکستان نے بیس مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اقتدار سنبھالنے کے بعد سری نگر گئے جہاں ان کے خلاف کشمیریوں نے مظاہرے کیے

قابل ذکر ہے کہ پچھلے اڑسٹھ سال کے دوران پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مفاہمت اور صلح جوئی کے جو بھی کوشش ہوئی اس میں دریائے سندھ کے پانی کی شراکت کا معاہدہ یا انڈس واٹر ٹریٹی اور ایل او سی جنگ بندی معاہدہ دو ایسے فیصلے ہیں جن پر طویل عرصہ تک عمل ہوا۔ کنٹرول لائن کو تشدد سے پاک کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے منقسم کشمیر کے خطوں کے مابین تجارت اور آمدورفت کو بھی بحال کیا ہے تاہم تجارت اور سفری سہولیات ابھی بھی سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے دشواریوں کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں