کوئلے کی الاٹمنٹ غیر قانونی: بھارتی سپریم کورٹ

Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی عدالت کے فیصلے کا مطالعہ کر رہی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے سنہ 1993 سے 2010 کے درمیان دیے گئے کوئلے کے الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چاہے یہ الاٹمنٹ سکریننگ کمیٹی کے ذریعے کی گئی ہو یا پھر حکومت کی جانب سے، یہ تمام الاٹمنٹیں غیر قانونی ہیں۔

ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کے مطابق عدالت نے کہا کہ اس عرصے میں کوئلے کی الاٹمنٹ میں کوئی شفافیت نہیں برتی گئی اور من پسند لوگوں کو الاٹمنٹ کی گئی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی عدالت کے فیصلے کا مطالعہ کر رہی ہے: ’عدالت نے کہا ہے کہ انھیں منسوخ کیا جائے یا نہیں، اس کا فیصلہ بعد ہوگا۔‘

انھوں نے ایک بار پھر مرکز کی سابق یو پی اے حکومت پر نشانہ بنایا جبکہ جب یہ الاٹمنٹ کی گئی اس وقت این ڈی اے حکومت تھی۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ جن کمپنیوں نے کان کنی شروع کر دی ہے ان کے بارے میں غور کرنے کے لیے کورٹ یکم ستمبر کو سماعت کرے گی۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ ریلائنس کو کوئلہ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور سی اے جی رپورٹ کے مطابق اس سے حکومت کو 29 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

بھارت کے کنٹرولر اور آڈیٹر (سی اے جی) کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئلے کی الاٹمنٹ میں بدعنوانی کے باعث ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں