گائے کی ملکیت کا مقدمہ ڈی این اے ٹیسٹ سے حل

Image caption اس تنازعے کی شدت کے باعث اس گائے کو عدالت میں بھی پیش کیا گیا

بھارت کی ریاست کیرالہ میں ایک خاتون نے گائے کی ملکیت کا مقدمہ اس کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت کر کے جیت لیا ہے۔

ایک خاتون سشیلکھا کا الزام تھا کہ اس کی ہمسائی گیتا اس کے مویشی چوری کر رہی ہے۔

بھینس کی عدالت میں پیشی

اس تنازعے کی شدت کے باعث اس گائے کو عدالت میں بھی پیش کیا گیا۔

یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی جانور کی ملکیت کا مقدمہ ڈی این اس ٹیسٹ کر کے سلجھایا گیا ہو۔ ہندو گائے کو ایک مقدس جانور سمجھتے ہیں۔

گائے کی ملکیت کے لیے یہ قانونی جنگ دونوں خواتین کے مابین گذشتہ برس اس وقت شروع ہوئی تھی، جب گیتا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی ایک گائے متنازع جانور کی ماں ہے۔

لیکن عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ اس کے ڈی این سے کروائے جائیں لیکن یہ ٹیسٹ گیتا کے حق میں نہیں آئے اور گائے سشیلکھا کی قرار پائی۔

سشیلکھا کے وکیل این چندرا بابو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گائے کی ملکیت پر جاری ایک برس طویل معاملہ اب حل ہو گیا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ اس ماہ کے اوائل میں آ گئی تھی۔ اب عدالت نے حمتی فیصلہ دینا ہے اور سشیلکھا کو اس گائے گا قبضہ ملے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ ایک انوکھا مقدمہ ہے، شاید تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ، جس میں کسی جانور کے اصل مالک کا پتہ لگانے کے لیے جانور کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا ہو۔‘

بابو کے مطابق وہ اپنے موکل کی جانب سے بدنامی اور ذہنی اذیت پہنچانے کے الزام میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سنہ 2013 میں دائر کیے گئے مقدمے میں گیتا نے کہا تھا کہ اس کے پاس 15 گائیں ہیں جن میں سے ایک نے متنازع گائے کو جنم دیا تھا۔

تنازعے کے باعث اس گائے کو عدالت میں پیش کیا گیا اور سشیلکھا کو اجازت دی گئی کہ وہ اسے اپنی تحویل میں ہی رکھیں، لیکن زر ضمانت کے طور پر انھیں 45 ہزار روپے عدالت میں جمع کروانے پڑے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں بیشتر خاندانوں کی گزر بسر مویشیوں پر منحصر ہوتی ہے۔

اسی بارے میں