مردہ بھارتی حقوق کا کارکن زندہ ہو گیا

تصویر کے کاپی رائٹ HT
Image caption شرما کے رشتہ داروں نے اس وقت کہا تھا کہ انہیں بدعنوانی کا انکشاف کرنے پر قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے ان کی لاش کی شناخت کی

ایک بھارتی انسانی حقوق کے کارکن جن کے بارے میں اب تک سمجھا جا رہا تھا کہ وہ دہلی کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے کو جنوبی شہر بنگلور میں زندہ پائے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چندر موہن شرما نے ایک اور خاتون کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ’اپنی موت کا ڈھونگ رچایا۔‘

شرما کو اب گرفتار کر لیا گیا ہے اس شخص کے قتل کے الزام میں جن کی لاش ان کی جلی ہوئی کار میں ملی تھیں۔

شرما ایک آزادی معلومات کے کارکن ہیں اور بدعنوانی کے خلاف لڑنے والی جماعت عام آدمی پارٹی کے رکن ہیں۔

یکم مئی کو پولیس نے کہا تھا کہ شرما کی جلی ہوئی لاش ان کی شیورلیٹ کار میں نوئیڈہ کے قریب ملیں۔

شرما کے رشتہ داروں نے اس وقت کہا تھا کہ انہیں بدعنوانی کا انکشاف کرنے پر قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے ان کی لاش کی شناخت کی۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجری وال نے 5 مئی کو ٹویٹ کر کے کہا ’چندرہ موہن کی ہلاکت کی تحقیقات کے مطالبے کے لیے‘ شمعیں روشن کی جائیں گی۔

جمعرات کو شرما کو بنگلور میں گرفتار کیا جہاں وہ ایک کار فیکٹری میں اپنی نئی شناخت کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

پولیس کے سربراہ پریتندر سنگھ نے رپورٹروں کو بتایا کہ ایک 38 سالہ شادی شدہ کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے ’جنہوں نے اپنی موت کا ڈھونگ رچایا تھا‘ اس جرم میں کہ انہوں نے ایک بے گھر شخص کو اپنی کار میں مارنے اور پھر کار کو اپنے رشتہ دار کی مدد سے نذرِ آتش کرنے کے جرم میں جو مفرور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرما نے ایسا ایک اور عورت کے ساتھ رہنے کے لیے کیا جن سے انہوں نے دہلی میں تعلقات استوار کیے تھے۔

پولیس کے مطابق انہوں نے اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے تاکہ اپنی شکل بدل سکیں اور نئے کاغذات لے کر ایک بنگلور کی ایک کار ساز فیکٹری میں کام شروع کیا تھا جہاں یہ جوڑا دہلی سے منتقل ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق شرما نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

جب شرما کے زندہ بچ جانے کی خبریں گردش کرنا شروع ہوئیں تب اُن کی اہلیہ سویتا شرما نے کہا کہ اُنہیں شبہ تھا کہ ان کے شوہر کا ایک اور خاتون سے تعلق تھا۔

سویتا شرما نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ ’ایک نوجوان لڑکی ہمارے ہمسائے میں رہتی تھی جس کا تعلق میرے شوہر کے ساتھ تھا۔ وہ ان کے ذاتی نمبر پر رابطہ کرتی رہتی تھی جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے۔ اُن کی موت کے ایک مہینے کے اندر اندر وہ بھی لاپتہ ہو گئی۔‘

اسی بارے میں